سیاست
ٹرمپ کا ایران کو سخت پیغام، آبنائے ہرمز بحران پر چین بھی متحرک
امریکی صدر نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا صبر اب ختم ہوتا جا رہا ہے اور تہران کو جلد معاہدہ کرنا ہوگا۔
فوکس نیوز کے پروگرام “ہینیٹی” میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران اگر اپنے جوہری پروگرام پر اصرار جاری رکھتا ہے تو امریکہ زیادہ دیر خاموش نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو فوری طور پر مذاکرات کی طرف آنا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ٹرمپ نے بیجنگ میں چینی صدر سے اہم ملاقات کی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کھلا رکھنے پر اتفاق کیا۔
ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اس اہم بحری راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا، جس کے باعث عالمی تیل منڈی شدید متاثر ہوئی۔ چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، نے آبنائے ہرمز کو فوجی کشیدگی سے پاک رکھنے پر زور دیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ شی جن پنگ نے ایران کو فوجی سازوسامان نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
دوسری جانب خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ عمان کے قریب ایک بھارتی مال بردار جہاز مبینہ میزائل یا ڈرون حملے کے بعد ڈوب گیا، جبکہ برطانوی بحری حکام کے مطابق فجیرہ کے قریب ایک جہاز پر نامعلوم افراد نے قبضہ کر کے اسے ایران کی جانب موڑ دیا۔
اگرچہ امریکہ نے گزشتہ ماہ ایران پر براہِ راست حملے روک دیے تھے، تاہم ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بدستور جاری ہے۔ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں کیونکہ تہران اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے اور افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرنے سے انکار کر رہا ہے۔
