فن و ثقافت
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
تحریر : ارم نیاز
یہ 1908 کا زمانہ تھا جب نیو یارک شہر میں 15000 خواتین نے کم گھنٹے کام، بہتر تنخواہوں اور ووٹ کے حق کے لیے مارچ کیا۔ انکے وہم و گمان میں بھی نہی ہو گا کہ خواتین کا یہ اجتماع عالمی سطح پر ہر سال منایا جانے لگے گا۔
اس دن کو عالمی سطح پر لے جانے کا خیال کلارا زتکن نامی خاتون کا تھا جو کہ ایک کمیونسٹ اور خواتین کے حقوق کی کارکن تھیں۔ انھوں نے 1910 میں کوپن ہیگن میں انٹرنیشنل کانفرنس آف ورکنگ ویمن میں یہ خیال پیش کیا جہاں 17 ممالک سے 100 خواتین موجود تھیں جنھوں نے متفقہ طور پر اس کی تائید کی اور یوں ہر سال آٹھ مارچ کو دنیا بھر کی خواتین “خواتین کا عالمی دن” جوش و خروش سے مناتی ہیں۔
بات پاکستان کی ہو تو خیبرپختونخواہ کی خواتین سے متعلق قیاس کیا جاتا رہا ہے کہ اس صوبے کی عوام فرسودہ روایات کی تابع ہے جسکے تحت یہاں کی خواتین کو وہ حقوق حاصل نہیں جو پاکستان کے دیگر صوبوں کی خواتین کو حاصل ہیں۔ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں۔ اس صوبے کی بیٹیوں نے پاک فوج میں شمولیت سے لیکر کھیل، تعلیم ، فنون لطیفہ، سیاست سمیت ہر کام میدان میں کامیابی کے وہ جھنڈے گاڑے ہیں جن کو سن کر ان سب تصورات کا خاتمہ ہو جاتا ہے جو ان سے متعلق کیے جاتے رہے ہیں۔
صنف آہن کی فہرست میں نمایاں نام تھری سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والی پہلی خاتون ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والی لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کا ہے۔
باوردی خواتین کی فہرست طویل ہے۔ اس فہرست میں اے آئی جی جینڈر ایکولٹی کی پوسٹ پر تعینات عائشہ گل، پشاور کی خاتون سب انسپکٹر چوکی انچارچ تعینات ہونے والی صائمہ شریف، پشاور کی اسسٹنٹ کمشنر قرت العین، مالاکنڈ کی پہلی خاتون پولیس آفیسر شازیہ اسحق، حیات آباد کی اے ایس پی خاتون آفیسر نایاب رمضان، مردان کی خاتون اے ایس پی ریشم جہانگیر اور پشاور یونیورسٹی ٹاؤن سرکل میں خاتون پولیس آفیسر نازش کی تعیناتی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس صوبے میں عورتوں کو زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے کیلئے یکساں حقوق حاصل ہیں۔
کامیاب خواتین کے قافلے میں سیاست کے میدان سے 1977 کے انتخابات میں منتخب ہونے والی پہلی خاتون نیشنل عوامی پارٹی کی رہنما اور پارلیمانی لیڈر بیگم نسیم والی خان، گزشتہ انتخابات میں اپنے مخالف کو جیت پر مبارکباد دینے کی روایت ڈالنے والی اے این پی کی پارٹی ترجمان ثمر ہارون بلور اور حالیہ انتخابات ہی میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار منتخب ہونے والی خاتون ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی شامل ہیں۔
کھیلوں کے میدان میں بھی خیبرپختونخوا کی خواتین کسی سے کم نہیں ۔ ان خواتین نے اپنا لوہا عالمی سطح پر بھی منوایا ہے۔ صوبے کی قابل فخر بیٹیوں میں مارشل آرٹس کوچ نازیہ علی، خصوصیت کو اپنی شناخت سمجھنے والی پشاور کی ٹیبل ٹینس اسٹار زینب برکت، گالف کے میدان میں پہ در پہ کامیابیاں حاصل کرنے والی حمنا امجد، قوت سماعت و گویائی سے محروم سکواش کی کم سن کھلاڑی ثنا بہادر اور پیرا گلائیڈر بینظر اعوان کا نام شامل ہے۔
فن موسیقی میں اپنی آواز کا جادو جگانے والی گل پانڑے اور پشتو لوک داستان کی ملکہ کا خطاب پانے والی زرسانگہ کا تعلق بھی خیبرپختونخوا سے ہے۔
یہی نہیں بلکہ حلال رزق کی تلاش میں سرگرداں ثنا کریم جیسی لڑکیوں نے ڈرائیونگ سروسز جیسے شعبے سے منسلک ہو کر لڑکیوں کیلئے ایک مثال قائم کی۔
قصہ مختصر ، خیبر کی خواتین کسی سے کم نہیں ہیں۔ خیبر کی ان تمام باہمت اور کامیاب خواتین کے نام اور کام کو احاطہ تحریر میں لانا ناممکن ہے لیکن پاکستان کی عوام کو ان پر ہمیشہ فخر رہے گا۔
