ٹیکنالوجی
چینی سائنس دانوں نے زیرو کاربن کوئلہ فیول سیل تیار کر لیا
چینی سائنس دانوں نے ایک ایسا جدید کوئلے سے چلنے والا فیول سیل تیار کیا ہے جو ممکنہ طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت مستقبل میں ماحول دوست توانائی کے حصول میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
روایتی تھرمل پاور پلانٹس میں کوئلہ جلا کر بجلی پیدا کی جاتی ہے، جس سے بڑی مقدار میں کاربن اخراج اور فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ تاہم چین کی شینزن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جسے “زیرو کاربن ایمیشن کول فیول سیل” کا نام دیا گیا ہے۔
اس جدید نظام میں کوئلہ جلانے کے بجائے اسے باریک پیس کر خشک کیا جاتا ہے اور خصوصی طریقے سے تیار کرنے کے بعد فیول سیل کے اینوڈ چیمبر میں ڈالا جاتا ہے۔ دوسری جانب کیتھوڈ میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے، جس سے الیکٹرو کیمیکل عمل کے ذریعے توانائی پیدا ہوتی ہے۔
اس عمل کے دوران پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سسٹم کے اندر ہی پکڑ لیا جاتا ہے اور بعد ازاں اسے مفید کیمیکلز، جیسے “سینگاس”، میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ جدید فیول سیل تقریباً 40 فیصد تک افادیت کے ساتھ توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی ممکن ہو سکے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ثابت ہوئی تو یہ دنیا بھر میں توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔
