Connect with us

صحت

ہنٹا وائرس، بل گیٹس اور نئی عالمی وبا؟ سوشل میڈیا پر خوف اور افواہوں کی نئی لہر

Published

on

دنیا میں جب بھی کوئی بڑی وبا یا غیر معمولی بیماری سامنے آتی ہے تو اس کے ساتھ سازشی نظریات اور افواہیں بھی جنم لینے لگتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہنٹا وائرس کے کیسز اور اموات کی خبروں کے بعد ایک بار پھر ایسا ہی منظر دیکھنے میں آ رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر بل گیٹس کا ایک پرانا انٹرویو دوبارہ وائرل ہو گیا ہے، جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں آنے والی وبا کووڈ 19 سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس وائرل انٹرویو کے بعد بعض صارفین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بل گیٹس نے ہنٹا وائرس کی پیش گوئی پہلے ہی کر دی تھی۔

تاہم مختلف فیکٹ چیک رپورٹس کے مطابق بل گیٹس نے کبھی ہنٹا وائرس کا نام لے کر کوئی پیش گوئی نہیں کی۔ ان کے عمومی بیانات کو حالیہ ہنٹا وائرس کیسز کے ساتھ جوڑ کر ایک مخصوص دعوے کی شکل دی گئی، جس سے لوگوں میں خوف اور غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی افواہیں خاص طور پر اس وقت تیزی سے پھیلتی ہیں جب لوگ پہلے ہی کسی نئی بیماری یا وبا کے حوالے سے حساس ہوں۔

دوسری جانب سابق امریکی ادارۂ صحت سی ڈی سی کے سربراہ ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے ہنٹا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کو “انتہائی خوفناک” قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ریڈفیلڈ اس سے قبل کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے بھی خبروں میں رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ہنٹا وائرس دراصل وائرسز کا ایک گروہ ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کی مخصوص اقسام کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ جانوروں کے فضلے، پیشاب اور تھوک کے ذریعے ماحول میں منتقل ہو سکتا ہے۔

مئی 2026 میں بحرِ اوقیانوس میں موجود ایک کروز شپ “ایم وی ہونڈیئس” پر اس وائرس کے پھیلاؤ کی خبریں سامنے آئیں، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اس کروز شپ پر اب تک تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پانچ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ عام عوام کے لیے خطرہ کم ہے اور موجودہ صورتحال کو کورونا وبا جیسا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عالمی ادارۂ صحت کی وبائی امراض کی ڈائریکٹر ماریا وان کیرخوف نے کہا ہے کہ ہنٹا وائرس اور کورونا وائرس ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور موجودہ صورتحال کو چھ سال پہلے کی عالمی وبا سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *