ٹیکنالوجی
مصنوعی ذہانت دشمن نہیں بلکہ ایک ٹیکنالوجی ہے، نوجوانوں کی تربیت پر توجہ ضروری: طاہر القادری
معروف مذہبی اسکالر علامہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کسی کی دشمن نہیں بلکہ ایک ٹیکنالوجی ہے، جس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔
ناروے میں جماعت اہل سنت کے مرکز میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن بذات خود نہ دوست ہوتے ہیں نہ دشمن، بلکہ ان کا مثبت یا منفی استعمال انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔
انہوں نے نوجوان نسل کی تربیت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل گھروں کا کردار صرف رہائش گاہ تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ انہیں تربیت گاہ ہونا چاہیے تھا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں میں دینی اقدار کو فطری انداز میں پروان چڑھائیں تاکہ دین ان کے اندر سے ابھرے۔
ناروے میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ اگر گھر میں تربیت کا مناسب نظام موجود نہ ہو تو بچوں کی شخصیت اسکول، معاشرے اور سوشل میڈیا سے تشکیل پاتی ہے، جہاں مثبت اور منفی دونوں اثرات موجود ہوتے ہیں۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کو مسجد اور دین کے ساتھ جوڑیں اور گھروں کو حقیقی معنوں میں تربیت کا مرکز بنائیں تاکہ نئی نسل اخلاقی اور فکری طور پر مضبوط ہو سکے۔
اپنے مستقبل کے دورہ پاکستان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی توجہ کینیڈا میں جاری تحقیقی کام پر مرکوز ہے، جسے مکمل کرنے کے بعد وہ پاکستان کا دورہ کریں گے، کیونکہ پاکستان ان کا اپنا گھر ہے۔
