Connect with us

سیاست

پاکستان میں رمضان کے چاند کی اٹکھیلیاں

Published

on

تحریر : ارم نیاز

روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ پہلی رات کا چاند دیکھ کر یہ دعا پڑھتے تھے

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَالإِسْلاَمِ وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضَى، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ.

یوں تو چندا ماموں سب کے من کو ہی بھاتے ہیں لیکن جب بات ہو رمضان، شوال کے چاند کی تو گویا پورے پاکستان کے نظریں فلک کی جانب اٹھ جاتی ہیں۔ ہر کوئی پیارے چاند کی جھلک دیکھنے کو بیقرار ہونے لگتا ہے۔ چاند دکھائی دے جائے تو ہی رمضان اور عید کا اعلان کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے رمضان اور شوال کے چاند کو دیکھنے پر سرکاری اور غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے مابین تنازعات دیکھنے کو ملتے رہے۔
یہ سلسلہ 1958 میں شروع ہوا جب پہلی مرتبہ پشاور میں ایک دن پہلے عید منائی گئی۔ سنہ 1960کی دہائی میں کراچی میں مرکزی حکومت کے فیصلے کے برخلاف عید منائی گئی۔ سنہ1961 میں دو عیدیں جب کہ پشاور میں پہلے ہی سعودی عرب کے چاند کے مطابق عید منائی گئی جس کی وجہ سے اس سال تین عیدیں منائی گئیں۔ سنہ 1966 اور 1967 میں بھی دو عیدیں منائی گئیں۔ ان اعلانات کی مخالفت کرنے پر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مفتی محمود، حسین نعیمی اور احتشام الحق تھانوی کو تین ماہ کے لیے نظر بند کیا گیا تھا۔ سنہ 1974ء میں ہلال کمیٹی تشکیل دی گئ جس کے ممبران کی تعداد 9 جبکہ 4 زونل کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ اور رویت ہلال کمیٹی کے قیام کے باوجود چاند کا مسئلہ اب بھی جوں کا توں ہے۔ اکثر اوقات یہ اختلافات وفاق اور صوبہ خیبرپختونخوا کے مابین جنم لیتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں چاند دیکھنے کی روایت عام ہے اور عموماً گاؤں دیہات کے عمر رسیدہ لوگ برسوں سے یہ کام کرتے آ رہے ہیں اور اپنے کام میں ماہر ہیں۔
سنہ 1842 میں تعمیر کی گئی پشاور کی قدیم مسجد قاسم علی خان کا ایک خصوصی تعلق چاند دیکھنے کی روایت سے کئی عشروں سے جڑا ہوا ہے اور یہ روایت اس تاریخی مسجد کی منفرد خصوصیت شمار ہوتی ہے۔
مسجد قاسم علی خان کی انتظامیہ چاند کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے اور اسے صوبے میں تسلیم بھی کیا جاتا ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہو گا کہ ماضی میں بھی مسجد قاسم علی خان میں ہی چاند نظر آنے یا نہ آنے سے متعلق اعلانات کیے جاتے تھے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ صوبے بھر کی عوام اس فیصلے کا احترام بھی کرتی تھی۔
تنازعات تب جنم لیتے ہیں جب سائنس قدیم روایتی طریقوں اور انسان سے ٹکراتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بھی چاند نظر نہیں آتا تو وفاق چاند نظر نہ آنے کا اعلان کرتی ہے اور صوبائی حکومت کی مسجد میں چاند دیکھنے کی شہادتیں موصول ہوتی ہیں۔ مسجد میں شہادتوں پر یقین رکھا جاتا ہے اور شہادت دینے والے سے سوالات کیے جاتے ہیں اسکے بعد ہی اسکی رائے کو تسلیم یا رد کرنے پر متفقہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔
پوری دنیا کے اسلامی ممالک میں رمضان اور عید ایک ہی روز پر منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں خوشی کے یہ دن بھی تنازعات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ایک شہر میں رہنے والا شخص دوسرے شہر میں موجود رشتے دار کو مبارکباد دینے سے بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے کہ انکا روزہ ہو گا۔
سال 2025 کا پہلا خوشی کا موقع یعنی رمضان کی ابتداء تو اچھی ہوئی ہے اور پورے ملک میں 2 مارچ کو رمضان کا آغاز ہو گا۔ دعا ہے کہ باقی آنے والے تہوار بھی ایک ہی روز پر منائے جائیں تاکہ پیار محبت اور یکجہتی کا احساس قائم رہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *