فن و ثقافت
صالح آصف کی کامیابی: پاکستانی ٹیلنٹ کی جیت یا پاکستانی نظام کی ناکامی؟
تحریر: خواجہ نوید
پاکستان میں صالح آصف کی کامیابی پر جس طرح قومی جشن منایا جا رہا ہے، وہ ہمارے اجتماعی رویّے کی ایک پرانی کمزوری کو پھر سے بے نقاب کرتا ہے۔ ہم ایک فرد کی غیر معمولی کامیابی کو پورے ملک کی جیت قرار دے کر خود کو تسلی تو دے لیتے ہیں، مگر اس حقیقت کا سامنا کرنے سے مسلسل انکار کرتے ہیں کہ صالح آصف کی کامیابی کا اصل سرچشمہ پاکستان نہیں، بلکہ وہ امریکی تعلیمی، تحقیقی اور کاروباری نظام ہے جس نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا، انہیں مواقع دیے اور انہیں عالمی سطح پر آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا۔ وہ کراچی میں پیدا ہوئے، مگر ان کی اصل تربیت میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی جیسے ادارے میں ہوئی جہاں تحقیق، تنقیدی سوچ اور تخلیقی آزادی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا تعلیمی نظام آج بھی رٹا سسٹم، فرسودہ نصاب اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں انفرادی سطح پر ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے نوجوان ذہانت، محنت اور تخلیقی صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں۔ دنیا بھر میں پاکستانی انجینئر، سائنسدان، محقق اور کاروباری شخصیات اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ صالح آصف بھی اسی روشن سلسلے کی ایک مثال ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ ٹیلنٹ پاکستان میں کیوں نہیں پنپتا؟ اس کا جواب ہمارے نظام کی خرابیوں میں پوشیدہ ہے، نہ کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں میں۔
پاکستان میں جاب پلیسمنٹ کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ یونیورسٹیوں میں کیریئر سروسز محض رسمی کارروائی تک محدود ہیں۔ ڈگریاں لینے کے بعد نوجوان خود ہی مواقع تلاش کرنے نکلتے ہیں، اور اکثر ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔ دوسری طرف جاب ریکروٹمنٹ میں سفارش، اقربا پروری اور کرپشن نے میرٹ کا گلا گھونٹ رکھا ہے۔ باصلاحیت نوجوان محض اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی “سفارش” نہیں، جبکہ کم اہل افراد تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ٹیلنٹ ضائع ہوتا ہے، پروان نہیں چڑھتا۔
کاروباری ایکوسسٹم کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ پاکستان میں نہ سرمایہ کاروں کا تحفظ ہے، نہ کاروبار شروع کرنے کے لیے سازگار ماحول۔ بیوروکریسی کی رکاوٹیں، پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال، ٹیکس نظام کی پیچیدگیاں، بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی—یہ سب مل کر کاروبار کو پنپنے سے پہلے ہی ختم کر دیتے ہیں۔ سلیکون ویلی میں صالح آصف کو وہ سرمایہ کار، وہ رہنمائی اور وہ سہولیات ملیں جو کسی بھی نئے آئیڈیا کو عالمی سطح تک لے جانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس ٹیلنٹ نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا نظام ٹیلنٹ کو آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ پاکستانی ٹیلنٹ جب عالمی معیار کے نظام سے جڑتا ہے تو کامیابی ممکن ہوتی ہے، لیکن پاکستانی نظام کے اندر رہ کر یہی ٹیلنٹ محض جدوجہد میں الجھا رہتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی پر کریڈٹ لینے کے بجائے اپنے تعلیمی ڈھانچے، جاب پلیسمنٹ کے نظام، ریکروٹمنٹ کے طریقہ کار، اور کاروباری ماحول کی اصلاح پر توجہ دیں۔
اصل جشن اس دن ہوگا جب پاکستان کا نوجوان پاکستان میں رہتے ہوئے اربوں ڈالر کی کمپنیاں بنائے گا۔ جب ٹیلنٹ کو ملک چھوڑنے کے بجائے ملک میں رہ کر ترقی کے مواقع ملیں گے۔ کیونکہ یہ بھی سچ ہے کہ اس کامیابی کی بنیاد میں ایک پاکستانی ذہن، ایک پاکستانی ٹیلنٹ اور ایک پاکستانی خواب شامل ہے، جسے ہمارے اپنے نظام نے نہیں، بلکہ کسی اور نظام نے پروان چڑھایا۔
khwajanaveed@outlook.com
