سیاست
انمول عرف پنکی کے عدالت میں سنگین الزامات، پولیس پر تشدد اور جھوٹے مقدمات بنانے کا دعویٰ
کراچی میں منشیات مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد سخت سیکیورٹی میں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں اس نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔
عدالت میں پیشی کے دوران ملزمہ نے کہا کہ اس کے ساتھ ظلم کیا گیا، اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ انمول عرف پنکی کا کہنا تھا کہ اسے لاہور سے گرفتار کر کے کراچی لایا گیا۔
ملزمہ نے دعویٰ کیا کہ اس پر بوریوں بھر کر منشیات ڈالی گئی اور چھ افراد اسے گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ اس کے مطابق پندرہ دن تک اسے اپنے پاس رکھنے کے بعد پولیس کے حوالے کیا گیا۔
انمول عرف پنکی نے مزید الزام لگایا کہ دورانِ تفتیش اس سے زبردستی بعض افراد کے نام کہلوائے جا رہے ہیں۔
عدالت میں خصوصی تحقیقاتی یونٹ کے تفتیشی افسران بھی موجود تھے، جنہوں نے مزید تفتیش کے لیے اضافی جسمانی ریمانڈ کی درخواست دائر کی۔
پولیس کے مطابق ملزمہ دو ہزار پچیس میں درج ایک مقدمے میں مفرور قرار دی گئی تھی اور طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھی۔
تفتیشی حکام نے عدالت کو بتایا کہ کارروائی کے دوران ملزمہ کے ایک ساتھی کو ضلع سینٹرل سے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ اہم شواہد اکٹھے کرنے کے لیے مزید ریمانڈ ضروری ہے، جبکہ شہر کے مختلف تھانوں میں درج گیارہ مقدمات میں بھی ملزمہ کا ریمانڈ حاصل کرنے کی درخواست دائر کی جائے گی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کارروائی شروع کر دی، جبکہ ملزمہ کو پیشی کے بعد سخت سیکیورٹی میں واپس منتقل کر دیا گیا۔
