Connect with us

ٹیکنالوجی

مستقبل کی اے آئی خود سمجھے گی آپ کی ضرورت، اینتھروپک کا بڑا دعویٰ

Published

on


ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے جہاں کمپیوٹر اور موبائل ڈیوائسز کو بار بار ہدایات دینے کی ضرورت شاید ختم ہو جائے۔

امریکی اے آئی کمپنی اینتھروپک کی ایگزیکٹو کیتھرین وُو نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ مستقبل کے مصنوعی ذہانت کے نظام اتنے ذہین ہوں گے کہ وہ صارفین کی روزمرہ عادات، ضروریات اور کام کے انداز کو سمجھ کر خود بخود مختلف کام انجام دے سکیں گے۔

سان فرانسسکو میں ہونے والی “کوڈ وِت کلاؤڈ” کانفرنس کے دوران ٹیک کرنچ سے گفتگو کرتے ہوئے کیتھرین وُو نے کہا کہ اس وقت لوگ اے آئی کو واضح ہدایات دیتے ہیں، جیسے ای میل لکھنے یا کوڈ تیار کرنے کیلئے، لیکن اگلا بڑا قدم یہ ہے کہ اے آئی خود سے فعال انداز میں کام کرے۔

انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں کلاڈ جیسے اے آئی سسٹمز صارف کے رویے اور ترجیحات کو اتنی گہرائی سے سمجھ سکیں گے کہ وہ بغیر کہے فائلیں تیار کرنا، شیڈول ترتیب دینا اور دیگر ضروری انتظامات کرنا شروع کر دیں گے۔

ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا مقصد انسانوں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان کے تھکا دینے والے اور بار بار دہرائے جانے والے کاموں کو آسان بنانا ہے تاکہ لوگ تخلیقی اور زیادہ اہم امور پر توجہ دے سکیں۔

کیتھرین وُو کا کہنا تھا کہ انسانی نگرانی پھر بھی انتہائی ضروری رہے گی کیونکہ اے آئی سسٹمز کو درست سمت میں رکھنے اور ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی کیلئے انسانی تجربہ اور مہارت ناگزیر ہوگی۔

اینتھروپک اس وقت ایسے جدید اے آئی ماڈلز تیار کر رہی ہے جو دفاتر، کاروباری اداروں اور پروفیشنل ماحول میں پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔

کمپنی کا “کلاڈ” چیٹ بوٹ گزشتہ برس کے دوران کاروباری صارفین میں تیزی سے مقبول ہوا ہے، جبکہ اینتھروپک کو مصنوعی ذہانت کی ابھرتی ہوئی بڑی کمپنیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *