Connect with us

سیاست

ہ27 فروری : ناشتے کی حسرت لیے بھارت کی چائے سے تواضع

Published

on

تحریر : ارم نیاز

کہتے ہیں نیک اور اچھا پڑوسی بھی نعمت خداوندی ہے۔ پاکستان وجود میں آیا تو اسکے ساتھ جنم لینے والے پڑوسی بھارت کو یہ عمل ایک آنکھ نہ بھایا۔
جنگ وہ واحد راستہ تھا جس کے ذریعے بھارت نے پاکستان کو تنگ کرنے کی ٹھانی۔ شیطانیت انسانیت پر غالب آئی اور 1965 میں پاک بھارت کا پہلا بڑا معرکہ دنیا نے دیکھا۔
لاہور میں ناشتہ کرنے کا خواب لیے بگڑے اور مغرور پڑوسی بھارت نے جب 500 ٹینکوں اور 50 ہزار فوج کے ساتھ سیالکوٹ پر حملہ کیا تو مقابل پاکستان کی طرف سے صرف 125 ٹینکوں اور نو ہزار جوانوں نے ہمت و بہادری سے مقابلہ کر کے جنگ بدر کی تاریخ دہرائی اور بھارت کو شکست فاش دیکر اسکا غرور خاک میں ملا دیا۔ چونڈہ کی یہ جنگ جنگوں کی تاریخ میں جنگ عظیم دوئم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی کے طور پر تاریخ میں امر ہو گئی۔ پاکستان فوج کی زبردست جوابی کارروائی نے دشمن کو ایسی کاری ضرب لگائی کہ مخالف کے 45 ٹینک تباہ جبکہ کئی ٹینک قبضے میں لے لیے گئے۔
زخم تازہ تھے، دل میں طوفان برپا تھا۔ پاکستان کو کیسے دوسری کاری ضرب لگانی ہے یہی سوچتے سوچتے کئی سال بیت گئے۔ بھارت اپنے مذموم ارادوں سے باز نہ آیا اور چھ سال بعد 1971 میں پاک بھارت کا دوسرا معرکہ پیش ایا۔
جب میدان میں مقابلہ کرنے کی سکت باقی نہ رہی تو بھارت نے قوم پرستی کا سہارا لیا۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کو مغربی پاکستان والوں سے بدظن کیا۔ اس کا نتیجہ سقوط ڈھاکہ کے طور پر سامنے آیا اور پاکستان کا ایک حصہ جدا ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں وجود میں آیا ۔
سنہ 1998 میں انڈیا نے جوہری تجربات کیے جس کا مقصد پاکستان کو اپنی طاقت دکھانا اور خوف بٹھانا تھا لیکن یہ غرور و تکبر تب خاک میں ملا جب چاغی کے پہاڑ روئی کے گالوں کی مانند اڑ گئے۔ پاکستان کی جانب سے جوابی کاروائی میں جوہری تجربات کیے گئے اور یوں پاکستان بھی جوہری طاقت والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا۔
ایٹمی طاقت بننے کے بعد گمان کیا جانے لگا کہ اب بھارت اپنی چالوں سے باز رہے گا لیکن 1999 میں کارگل کا محاذ کھول کر ہر گمان کو غلط ثابت کیا بھارت نے۔
جنگ میں کیپٹن کرنل شیر شہید (نشان حیدر) اور حوالدار لالک جان جیسے سینکڑوں بے باک، نڈر اور بہادر فوجی جوانوں نے بہادری اور دلیری کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ دشمن انکی بہادری کا معترف ہو گیا۔
معرکہ کارگل کے بیس برس بعد بھارت نے 26 فروری 2019 کو بھارتی فضائیہ نے جعلی سر جیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ رچایا جس کا بھانڈہ پاکستان نے عالمی میڈیا کو موقع پر لے جا کر پھوڑا۔
27 فروری 2019 کو بھارت نے پلوامہ فالس فلیگ آپریشن کے بعد بزدلانہ حملے کی کوشش کی تاہم پاک فضائیہ کے شاہینوں وِنگ کمانڈر محمد نعمان علی خان اور سکواڈرن لیڈر حسن محمود صدیقی نے بھارتی فضائیہ کے برتری کے تمام دعوؤں کو خاک میں ملاتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے مگ ٹوئنٹی ون اور سخوئی تھرٹی طیارے مار گرائے گئے۔
یہی نہیں پاک فوج نے آزاد کشمیر میں پیرا شوٹ سے اترنے والے اور مقامی افراد کے ہاتھوں لہو لہان ہونے والے بھارتی پائلٹ ابھینندن کو بھی پکڑا۔ بعد ازاں جذبہ خیر سگالی کے تحت ابھینندن کو چائے پلا کر رخصت کیا گیا۔ ونگ کمانڈر ابھینندن کا یہ جملہ “دی ٹی از فینٹیسٹک” بھی اس تاریخ کا حصہ رہے گا۔
بھارتی ونگ کمانڈر کی وردی، جہاز کی باقیات اور چائے کا کپ پی اے ایف میوزیم کراچی کی آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ گیلری میں محفوظ ہیں جو آنے والی نسلوں کو یاد دلاتا رہے گا کہ پاکستان کے شاہین کیسے مہمانوں کو آسمانوں سے زمین پر چائے پلانے کیلئے اتارتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *