سیاست
وفاقی حکومت کے نئے ضابطے، سرکاری ملازمین کے لیے سخت قوانین نافذ
وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے باسٹھ سال پرانے ضابطۂ اخلاق کی جگہ نیا ضابطہ نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت مالی شفافیت، مفادات کے ٹکراؤ اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق سخت قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔
نئے قواعد کے مطابق گریڈ سترہ اور اس سے اوپر کے افسران کو ہر سال تیس اکتوبر تک اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرانا ہوں گی۔ ان تفصیلات میں بینک اکاؤنٹس، حصص، سیکیورٹیز، انشورنس پالیسیاں، کرپٹو کرنسی اور پچاس لاکھ روپے سے زائد مالیت کے زیورات شامل ہوں گے۔
حکومت کے مطابق اثاثوں کی بعض معلومات عوامی سطح پر بھی جاری کی جائیں گی، تاہم حساس ذاتی معلومات خفیہ رکھی جائیں گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان گوشواروں کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔
نئے ضابطے میں مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق جامع نظام بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت افسران کو اپنے ذاتی یا خاندانی مفادات ظاہر کرنا ہوں گے تاکہ سرکاری فیصلوں پر اثرانداز ہونے سے بچا جا سکے۔
حکومت نے سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ سرکاری ملازمین پیشگی اجازت کے بغیر ویب سائٹس، پوڈکاسٹس، بلاگز یا وڈیو چینلز نہیں چلا سکیں گے، جبکہ ذاتی تشہیر کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنا بھی ممنوع ہوگا۔
تحائف اور مہمان نوازی سے متعلق قوانین بھی مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ نئے قواعد کے مطابق سرکاری ملازمین اور ان کے اہلخانہ غیر متعلقہ افراد، کمپنیوں یا غیر ملکی نمائندوں سے تحائف وصول نہیں کر سکیں گے، سوائے ان صورتوں کے جو توشہ خانہ قوانین کے تحت جائز ہوں۔
مزید برآں افسران کو اپنی آمدن سے بڑھ کر اخراجات کرنے سے بھی روکا گیا ہے، جبکہ شادیوں اور دیگر تقریبات میں غیر معمولی اخراجات پر وضاحت طلب کی جا سکے گی۔
