Connect with us

سیاست

پشتون قوم کب جاگے گی؟

Published

on


تحریر: محمد عارف خان

پشتون قوم بہادری، غیرت، مہمان نوازی اور صلاحیتوں کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پشتونوں نے ہر میدان میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا، چاہے وہ تعلیم ہو، سیاست، کھیل، کاروبار یا دفاعِ وطن۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی ہماری قوم جذباتی نعروں، لسانی سیاست، مذہبی تقسیم اور وقتی مفادات کے جال میں پھنسی ہوئی ہے۔

کوئی ہمیں پنجابی کے خلاف کھڑا کرتا ہے، کوئی سندھی کے خلاف نفرت سکھاتا ہے، کوئی انقلاب کے نام پر نوجوانوں کو سڑکوں پر لاتا ہے اور کوئی جلسوں اور دھرنوں کے ذریعے جذبات بھڑکاتا ہے۔ لیکن کتنے لوگ ہیں جو پشتون نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرو، ہنر سیکھو، اپنے بچوں کا مستقبل سنوارو اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کرو؟

ہم اکثر ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہیں جنہوں نے سڑکیں، اسکول، یونیورسٹیاں اور ترقیاتی منصوبے دیے، جبکہ صرف نعروں اور جذباتی تقریروں سے ہمیں ورغلانے والوں کو ہم اپنا نجات دہندہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے کہ ہم مذہب، لسانیت اور وقتی جذبات کے نام پر جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پشتونوں کا سب سے زیادہ نقصان خود پشتونوں نے کیا۔ مولانا حسن جان، شیخ ادریس، مولانا خان زیب، عثمان کاکڑ، بلور خاندان اور ہزاروں دیگر پشتون شخصیات پر حملے کرنے والے بھی پشتون ہی تھے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے تسلیم کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یہ ضرور سوال ہے کہ یہ سب کس کے اشاروں پر ہوا، کیوں ہوا، مگر حقیقت یہی ہے کہ پشتون کا خون اکثر پشتون کے ہاتھوں بہا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پشتون قوم نفرت، تشدد اور جذباتی سیاست سے نکل کر تعلیم، شعور اور ترقی کی راہ اپنائے۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور وہ قومیں کامیاب ہو رہی ہیں جو کتاب، قلم، تحقیق اور علم کو اپنا ہتھیار بنا رہی ہیں۔

اے پشتونو
آپ ایک باصلاحیت، بہادر اور ذہین قوم ہیں۔ اپنے بچوں کے ہاتھ میں بندوق نہیں بلکہ قلم اور کتاب دیں۔ انہیں اسکول، کالج اور یونیورسٹی بھیجیں۔ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ اگر پشتون نوجوان تعلیم یافتہ ہوگا تو کوئی بھی اسے نفرت، تشدد یا جھوٹے نعروں کے ذریعے استعمال نہیں کر سکے گا۔

اپنی آنے والی نسلوں کو جنگ نہیں، علم دیں۔ کیونکہ قلم کی طاقت ہمیشہ بندوق سے زیادہ دیرپا اور مضبوط ہوتی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *