Connect with us

صحت

صرف دو انگلیوں سے دل کی صحت جانچنے کا آسان طریقہ وائرل

Published

on

سوشل میڈیا پر ان دنوں دو انگلیوں کی مدد سے نبض چیک کرنے کا طریقہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جسے گھر بیٹھے دل کی صحت جانچنے کا آسان اور فوری نسخہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس طریقے میں شہادت اور درمیانی انگلی کو کلائی پر انگوٹھے کے نیچے یا گردن کی رگ پر رکھ کر دل کی دھڑکن کو محسوس کیا جاتا ہے۔ اس دوران دھیان دیا جاتا ہے کہ نبض کی رفتار معمول کے مطابق ہے یا بہت تیز، بہت سست یا بے ترتیب۔

ماہرینِ امراضِ قلب کے مطابق یہ طریقہ کسی بیماری کی حتمی تشخیص تو نہیں کر سکتا، لیکن دل کی ابتدائی خرابیوں اور دھڑکن میں بے ترتیبی جیسے مسائل کی ابتدائی نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نبض چیک کرنے کا بہترین وقت صبح سویرے نیند سے بیدار ہونے کے فوراً بعد ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت جسم مکمل طور پر آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ورزش، کافی یا سگریٹ نوشی کے فوراً بعد نبض چیک نہ کی جائے کیونکہ اس سے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق نبض کو 30 سیکنڈ تک گن کر اسے دو سے ضرب دی جائے۔ ایک صحت مند بالغ انسان کی آرام کی حالت میں نبض 60 سے 100 دھڑکن فی منٹ کے درمیان ہونی چاہیے۔

ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر نبض مسلسل 100 سے زیادہ یا 60 سے کم رہے، یا دھڑکن بے ترتیب محسوس ہو، تو یہ دل کے برقی نظام میں خرابی، ذہنی دباؤ، پانی کی کمی یا تھائیرائڈ جیسے مسائل کی علامت ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ اگر دھڑکن کے دوران ایسا محسوس ہو کہ ایک دھڑکن چھوٹ گئی ہے یا دھڑکنیں آپس میں ٹکرا رہی ہیں تو اسے معمولی نہ سمجھا جائے، کیونکہ یہ بعض اوقات فالج کے خطرے کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔

تاہم طبی ماہرین نے واضح کیا کہ یہ سادہ ٹیسٹ دل کی بند شریانوں یا ہائی بلڈ پریشر جیسی خاموش بیماریوں کا پتہ نہیں لگا سکتا، جس کے لیے ای سی جی، ایکو اور دیگر طبی ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا کہ دل کی بہتر صحت کے لیے متوازن غذا، کم نمک، باقاعدہ ورزش اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *