Connect with us

ٹیکنالوجی

امریکی فوج نے پہلی بار سمندر میں پھنسے اہلکاروں کو بچانے کے لیے ڈرون بوٹ استعمال کر لی

Published

on

مشرقِ وسطیٰ کے سمندری علاقے میں پیش آنے والے ایک غیر معمولی واقعے نے فوجی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایک امریکی اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد اس کے عملے کے دو ارکان کو بچانے کے لیے امریکی بحریہ نے پہلی مرتبہ خودکار سمندری ڈرون بوٹ کا استعمال کیا۔

امریکی بحریہ کے مطابق ریسکیو آپریشن میں “سارونک کورسیئر” نامی بغیر عملے کے چلنے والی جدید ڈرون بوٹ استعمال کی گئی۔ تقریباً 24 فٹ طویل یہ خودکار بحری پلیٹ فارم دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اسے خاص طور پر خطرناک ماحول میں آپریشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

امریکی دفاعی حکام کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ سمندر میں پھنسے فوجی اہلکاروں کی جان بچانے کے لیے کسی خودکار بحری نظام کو عملی طور پر استعمال کیا گیا ہو۔

امریکا گزشتہ چند برسوں سے اپنی دفاعی حکمت عملی میں بغیر عملے کے چلنے والے نظاموں کو شامل کر رہا ہے۔ اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی ٹاسک فورس 59 بحرین میں موجود ہے، جو جدید بحری ڈرونز اور خودکار نظاموں کی آزمائش اور تعیناتی پر کام کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز صرف سطح آب پر ہی نہیں بلکہ پانی کے اندر بھی مختلف مشنز سرانجام دے سکتے ہیں۔ ان کا استعمال نگرانی، بارودی سرنگوں کی نشاندہی، حساس معلومات جمع کرنے اور دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان ڈرونز کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی کم لاگت، تیز رفتار ردعمل اور انسانی جانوں کے لیے کم خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں امریکی بحریہ ایسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں ڈرونز کو اپنے آپریشنل نظام کا حصہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی نہ صرف جنگی کارروائیوں میں بلکہ انسانی جانیں بچانے کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔