صحت
پاکستانی دوا ساز کمپنی کی عالمی کامیابی، انجیکشنز اور آئی ڈراپس کے لیے بین الاقوامی ‘پی آئی سی ایس’ سرٹیفکیشن حاصل
پاکستان کی ایک دوا ساز کمپنی نے عالمی سطح پر اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے انجیکشنز اور آئی ڈراپس کی اسٹرائل تیاری کے لیے بین الاقوامی معیار کی ‘پی آئی سی ایس’ سرٹیفکیشن حاصل کر لی ہے۔
اے ٹی سی او گروپ کے مطابق کمپنی کی اسٹرائل مینوفیکچرنگ سہولت کو عالمی گُڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز کے معیار پر پورا اترنے کے بعد یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ انجیکشنز اور آئی ڈراپس کی اسٹرائل تیاری کے شعبے میں یہ کامیابی حاصل کرنے والی وہ پاکستان کی پہلی دوا ساز کمپنی ہے۔
پی آئی سی ایس کو دواسازی کی صنعت میں معائنے اور معیار کے حوالے سے عالمی سطح پر انتہائی معتبر نظام سمجھا جاتا ہے، جس میں 50 سے زائد ممالک کے ریگولیٹری ادارے شامل ہیں۔ اس سرٹیفکیشن کا مقصد دنیا بھر میں ادویات کی تیاری کے یکساں اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ ملک نے اس کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستانی ادویات اور طبی آلات کی برآمدات کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور عالمی منڈیوں تک رسائی مزید آسان ہو گی۔
اے ٹی سی او لیبارٹریز کے گروپ ہیڈ فارما ڈیولپمنٹ ڈاکٹر منیر انور کے مطابق ملائیشیا کے پی آئی سی ایس ریگولیٹری ادارے نے کمپنی کی اسٹرائل مینوفیکچرنگ سہولت کا معائنہ اور منظوری دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرٹیفکیشن کے بعد کمپنی اپنی منظور شدہ مصنوعات کی دو کھیپیں پہلے ہی ملائیشیا برآمد کر چکی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ منظوری اسے پی آئی سی ایس فریم ورک میں شامل 50 سے زائد ممالک تک برآمدات کے مواقع فراہم کرے گی، جبکہ ابتدائی مرحلے میں ملائیشیا، افریقی ممالک اور وسطی ایشیائی منڈیوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انجیکشنز اور دیگر اسٹرائل ادویات کی تیاری فارماسیوٹیکل صنعت کا انتہائی حساس شعبہ ہے، جہاں معیار، صفائی اور حفاظتی تقاضوں پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے اس شعبے میں بین الاقوامی منظوری حاصل کرنا پاکستان کی دوا ساز صنعت کے لیے ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کی دواسازی برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور برآمدات کا حجم 457 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ سالانہ نمو ہے۔
