صحت
شدید گرمی غصے اور چڑچڑے پن میں اضافہ کر سکتی ہے، ماہرین نفسیات کی اہم وارننگ
گرمیوں کے موسم میں اکثر لوگ خود کو معمول سے زیادہ چڑچڑا، بے چین اور غصے کا شکار محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے سائنسی وجوہات موجود ہیں۔
نفسیات کے ماہرین کے مطابق شدید گرمی انسانی جسم اور دماغ دونوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب درجہ حرارت حد سے بڑھ جاتا ہے تو جسم مسلسل خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں تھکن، بے آرامی اور ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہی عوامل انسان کی برداشت کم کر دیتے ہیں اور معمولی باتیں بھی غصے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین اس رجحان کو “ٹمپریچر اگریشن تھیوری” سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق گرم موسم انسان میں چڑچڑے پن، مایوسی اور جارحانہ رویوں کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے، خاص طور پر ایسے افراد میں جو پہلے ہی کام کے دباؤ، مالی مشکلات یا ذاتی پریشانیوں کا شکار ہوں۔
تحقیقی مطالعات میں بھی گرم موسم اور جارحانہ رویوں کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گرمی کے باعث جسم میں پانی کی کمی، پسینہ، نیند کی خرابی اور مسلسل تھکن جذباتی کنٹرول کو متاثر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان جلد غصے میں آ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف دن کی گرمی ہی مسئلہ نہیں بلکہ گرم راتیں بھی انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر رات کے وقت درجہ حرارت کم نہ ہو تو جسم اور دماغ کو آرام کا مناسب موقع نہیں ملتا، جس سے اگلے دن ذہنی دباؤ، تھکن اور چڑچڑے پن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ماہرین اس صورتحال سے بچنے کے لیے چند آسان مشورے بھی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا، ٹھنڈی جگہوں پر وقت گزارنا، اچھی نیند لینا اور غصے کے وقت چند لمحوں کے لیے خاموش رہنا جذباتی توازن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی اکیلے جھگڑوں یا تنازعات کی وجہ نہیں بنتی، لیکن یہ انسان کو زیادہ حساس اور جذباتی ضرور بنا سکتی ہے۔ اس لیے شدید گرمی کے دنوں میں صبر، برداشت اور جسمانی نگہداشت پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
