Connect with us

ٹیکنالوجی

اینویڈیا کی نئی ’’آر ٹی ایکس اسپارک‘‘ چپ متعارف، مصنوعی ذہانت اب براہِ راست ذاتی کمپیوٹرز پر چل سکے گی

Published

on

دنیا کی معروف چپ ساز کمپنی اینویڈیا نے مصنوعی ذہانت کو براہِ راست لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز تک پہنچانے کے لیے اپنی نئی ’’آر ٹی ایکس اسپارک‘‘ چپ متعارف کرا دی ہے، جسے ماہرین کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

اینویڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ نے تائیوان میں جاری کمپیوٹیکس کانفرنس کے دوران اس نئی چپ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ مائیکروسافٹ کے ساتھ تین سالہ اشتراک کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے دور کے لیے ذاتی کمپیوٹرز کو نئی شکل دینا ہے۔

جینسن ہوانگ کے مطابق ’’آر ٹی ایکس اسپارک‘‘ چپ کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون نظام براہِ راست کمپیوٹر پر کام کر سکیں، جس سے صارفین کو ہر وقت بادل نما کمپیوٹنگ خدمات پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس جدید چپ کی تیاری میں تائیوان کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی میڈیا ٹیک نے بھی اینویڈیا کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

ٹیکنالوجی تجزیہ کار اور کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے شریک بانی نیل شاہ کے مطابق ’’آر ٹی ایکس اسپارک‘‘ روایتی پروگراموں پر مبنی کمپیوٹرز کو مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ذہین ذاتی کمپیوٹرز میں تبدیل کر سکتی ہے، جو مستقبل میں گھروں اور دفاتر کا لازمی حصہ بن جائیں گے۔

نیل شاہ نے کہا کہ جس طرح آئی فون، چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک نے اپنی اپنی صنعتوں میں انقلاب برپا کیا، اسی طرح ’’آر ٹی ایکس اسپارک‘‘ کمپیوٹنگ کے شعبے میں ایک نئی تبدیلی کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

اینویڈیا نے تقریب کے دوران اپنا نیا ’’ویرا پروسیسر‘‘ بھی متعارف کرایا، جو خصوصی طور پر مصنوعی ذہانت کے معاون نظاموں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جینسن ہوانگ کے مطابق اوپن اے آئی، اینتھروپک اور اسپیس ایکس سمیت کئی بڑی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ویرا پروسیسر اینویڈیا کو 200 ارب ڈالر کی نئی منڈی تک رسائی فراہم کر سکتا ہے اور مستقبل میں کمپنی کی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بنے گا۔

اس موقع پر جینسن ہوانگ نے یہ تاثر بھی مسترد کیا کہ مصنوعی ذہانت سافٹ ویئر انجینئرز کی ملازمتیں ختم کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت دراصل ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور سافٹ ویئر انجینئرز کی طلب مزید بڑھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ملازمتیں ختم نہیں کرے گی بلکہ نئی مہارتوں اور نئے مواقع پیدا کرے گی۔

واضح رہے کہ کمپیوٹیکس ٹیکنالوجی نمائش 2 جون سے 5 جون تک جاری رہے گی، جہاں دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان اور ماہرین اپنی نئی ایجادات اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پیش کر رہے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *