ٹیکنالوجی
چین نے دنیا کا پہلا اے آئی روبوٹ ٹوائلٹ متعارف کرا دیا، خود چل کر بستر تک پہنچ جاتا ہے
مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹک ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو مزید آسان بنانے کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ چین کی ایک کمپنی نے دنیا کا پہلا خودکار “روبوٹ ٹوائلٹ” متعارف کروایا ہے جو ضرورت پڑنے پر خود چل کر صارف کے بستر کے قریب پہنچ جاتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جدید سمارٹ ٹوائلٹ “شیاؤبان” نامی نظام کے تحت تیار کیا گیا ہے اور اسے حال ہی میں شنگھائی میں منعقدہ ایک ٹیکنالوجی نمائش میں پیش کیا گیا۔
کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ خاص طور پر معذور افراد، بزرگ شہریوں اور ایسے مریضوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو جسمانی کمزوری یا بیماری کے باعث خود واش روم تک جانے سے قاصر ہوتے ہیں۔
اس جدید روبوٹ میں لائیڈار اور اے آئی تھری ڈی نیویگیشن سسٹم نصب کیا گیا ہے، جس کی مدد سے یہ گھر کے اندر موجود فرنیچر اور دیگر رکاوٹوں سے بچتے ہوئے خودکار انداز میں مطلوبہ شخص تک پہنچ جاتا ہے۔
صارف کی سہولت کے ساتھ ساتھ صفائی اور حفظانِ صحت کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ روبوٹ ٹوائلٹ میں ایکٹیویٹڈ چارکول فلٹرز اور خصوصی فوم شیلڈ نصب کی گئی ہے جو بدبو کو کمرے میں پھیلنے سے روکتی ہے۔
استعمال مکمل ہونے کے بعد یہ روبوٹ خودکار طریقے سے مین واش روم یا مخصوص ڈاکنگ اسٹیشن تک واپس جاتا ہے جہاں پائپ لائن کے ذریعے فضلہ خارج کر دیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ یہ سمارٹ ڈیوائس پریشر واٹر جیٹس اور الٹرا وائلٹ لائٹ کی مدد سے خود کو اندر سے دھو کر جراثیم سے پاک بھی کر لیتی ہے، جس سے صفائی کا عمل مکمل طور پر خودکار ہو جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس منفرد روبوٹ ٹوائلٹ کی قیمت چینی مارکیٹ میں تقریباً 13 ہزار امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 36 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس قسم کی ایجادات بزرگ افراد اور خصوصی ضروریات رکھنے والے مریضوں کی زندگی کو زیادہ آسان، محفوظ اور باوقار بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ روبوٹ ایک اور مثال ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام انسانی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
