سیاست
ایران میں رجیم چینج ہوچکی، نئی قیادت اسمارٹ ہے، تاریخی معاہدے میں پاکستان کا بڑا کردار ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
فرانس میں جی-7 سربراہی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ حالیہ امن معاہدے کو خطے کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں نئی اور زیادہ سمجھدار قیادت سامنے آئی ہے جو معاملات کو دانشمندی سے آگے بڑھا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوتا تو بمباری ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی تھی اور مشرق وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہو جاتا۔ ان کے مطابق معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھلنے جا رہی ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آ رہی ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے میں دونوں ممالک نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی معاہدے میں پاکستان کا بڑا ہاتھ ہے اور پاکستانی قیادت نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی نئی قیادت خطے میں استحکام اور امن کے لیے زیادہ مثبت انداز میں کام کر رہی ہے اور امید ظاہر کی کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو کوئی مالی پیکج یا فنڈ فراہم نہیں کرے گا، تاہم اگر دیگر ممالک ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہیں تو واشنگٹن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
اسرائیل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو خوش نہیں ہیں اور لبنان کے معاملے پر بھی ان کے ساتھ اختلافات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے ساتھ معاملات میں زیادہ محتاط اور متوازن رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو معاشی بحران اور توانائی کی قلت سے بچانے کے لیے ایران معاہدہ ناگزیر تھا اور جی-7 ممالک سمیت عالمی برادری اس پیش رفت کا خیرمقدم کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے اور اس کا کھلا رہنا عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے تسلسل کے لیے ضروری ہے۔
