ٹیکنالوجی
فیس بک پر جعلی اکاؤنٹس اور چوری شدہ مواد کے خلاف میٹا کی بڑی کارروائی
میٹا نے فیس بک پر غیر اصل اور چوری شدہ مواد پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ 2025 کے دوران 1 کروڑ جعلی اکاؤنٹس حذف کیے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت مشہور کریئیٹرز کا مواد بغیر اجازت یا تبدیلی کے پوسٹ کرنے والوں کی تھی۔
اس کے علاوہ، 5 لاکھ اکاؤنٹس کو اسپام سرگرمیوں یا جعلی انگیجمنٹ پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان اکاؤنٹس کی پوسٹس کی رسائی محدود کر دی جائے گی، اور وہ فیس بک کے مونیٹائزیشن پروگرامز سے بھی باہر ہو جائیں گے۔ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کا مواد مکمل طور پر غیر مرئی بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ اقدامات اس وقت کیے جا رہے ہیں جب یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر یعنی مصنوعی ذہانت سے بنے، کم معیار کے ویڈیوز کی بھرمار پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
میٹا نے واضح کیا ہے کہ یہ پالیسی تخلیقی مواد، جیسے ری ایکشن ویڈیوز یا تبصروں، پر لاگو نہیں ہوگی۔ نشانہ صرف ان اکاؤنٹس کو بنایا جا رہا ہے جو دوسروں کا مواد بغیر تبدیلی یا اجازت کے دوبارہ پوسٹ کرتے ہیں۔
کمپنی نئے فیچرز پر بھی کام کر رہی ہے جیسے کہ ری پوسٹ شدہ مواد کو اصل پوسٹ سے لنک کرنا اور پوسٹ لیول انسائٹس دینا، تاکہ صارفین جان سکیں کہ ان کا مواد کیوں کم دکھایا جا رہا ہے۔
میٹا کے مطابق، فیس بک کے ماہانہ صارفین میں سے 3 فیصد جعلی اکاؤنٹس ہیں، اور جنوری سے مارچ 2025 کے درمیان ایک ارب جعلی پروفائلز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
ادھر انسٹاگرام پر آٹو میٹڈ مانیٹرنگ سسٹم کے خلاف صارفین کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے، جہاں ایک پٹیشن پر 30 ہزار سے زائد دستخط ہو چکے ہیں۔
میٹا نے اعلان کیا ہے کہ نئی پالیسیز بتدریج نافذ کی جائیں گی تاکہ مواد تخلیق کرنے والوں کو ایڈجسٹ کرنے کا وقت ملے۔
