صحت
آئس کریم کھاتے ہی سر میں اچانک درد کیوں ہوتا ہے؟ ماہرین نے برین فریز کی وجہ بتا دی
گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈی اشیاء جیسے آئس کریم، قلفی اور برف والے مشروبات کا استعمال عام ہو جاتا ہے، لیکن اکثر لوگ ان چیزوں کا بڑا لقمہ لیتے ہی چند لمحوں کے لیے سر میں شدید درد محسوس کرتے ہیں۔ طبی ماہرین اس کیفیت کو ’’برین فریز‘‘ یا ’’آئس کریم ہیڈیک‘‘ کہتے ہیں۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق کے مطابق یہ درد دراصل جسم کے ایک قدرتی حفاظتی نظام کا حصہ ہے، جو دماغ کو اچانک درجہ حرارت میں کمی کے اثرات سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب کوئی انتہائی ٹھنڈی چیز منہ کے اوپری حصے یعنی تالو کے پچھلے حصے کو چھوتی ہے تو وہاں موجود خون کی نالیاں فوراً سکڑ جاتی ہیں۔ دماغ اس اچانک تبدیلی کو محسوس کرتے ہوئے متاثرہ حصے کو دوبارہ گرم کرنے کے لیے زیادہ خون بھیجتا ہے۔
اس عمل کے دوران خون کی نالیاں پہلے سکڑتی ہیں اور پھر تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی اچانک تبدیلی چند سیکنڈ کے لیے تیز درد پیدا کرتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ درد کا آغاز منہ میں ہوتا ہے لیکن محسوس پیشانی یا سر میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تالو کے قریب موجود اعصابی نظام چہرے اور پیشانی کے اعصاب سے منسلک ہوتا ہے، جس کے باعث دماغ درد کی اصل جگہ کو درست طور پر پہچان نہیں پاتا۔
طبی اصطلاح میں اس کیفیت کو ’’ریفرڈ پین‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی درد ایک جگہ پیدا ہو لیکن محسوس کسی دوسری جگہ ہو۔
ماہرین کے مطابق برین فریز کا درد عام طور پر 20 سے 30 سیکنڈ کے اندر اپنی شدت پر پہنچ کر خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ تالو کو زبان سے گرم کرنے یا کوئی گرم مشروب پینے سے بھی اس درد میں جلد آرام آ سکتا ہے۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آدھے سر کے درد یعنی مائیگرین کے مریضوں میں برین فریز نسبتاً زیادہ شدت سے محسوس ہو سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کیفیات میں بعض اعصابی راستے مشترک ہو سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق برین فریز کا مطالعہ سر درد اور خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئس کریم یا قلفی کھاتے وقت چند لمحوں کے لیے سر میں درد محسوس ہو تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ جسم کا ایک فطری اور عارضی حفاظتی ردعمل ہوتا ہے۔
