سیاست
امریکا نے حملہ کیا تو خونریزی ہوگی، خطے کا امن خطرے میں پڑ جائے گا: کیوبا کے صدر
کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینال نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے کیوبا کے خلاف فوجی کارروائی کی تو اس کے نتیجے میں خونریزی ہوگی اور پورے خطے کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔
کیوبن صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کیوبا کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں، تاہم اگر ملک پر حملہ کیا گیا تو عوام بھرپور مزاحمت کریں گے اور اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ کیوبا نے 300 سے زائد فوجی ڈرون حاصل کیے ہیں اور ان کے ممکنہ استعمال سے متعلق منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ اہداف میں امریکی بحری اڈہ گوانتانامو بے، امریکی جنگی جہاز اور فلوریڈا کے علاقے کی ویسٹ شامل ہو سکتے ہیں۔
کیوبا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ممکنہ فوجی مداخلت کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب ہوانا کے شہریوں نے بھی امریکی دھمکیوں پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید معاشی بحران، ایندھن کی قلت اور مشکلات کے باوجود کیوبا اپنے دفاع سے دستبردار نہیں ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے وینزویلا کے تیل کی فراہمی محدود کیے جانے کے بعد کیوبا شدید توانائی بحران کا شکار ہے۔ ملک میں ایندھن کی کمی بڑھ چکی ہے جبکہ کئی علاقوں میں روزانہ صرف ایک یا دو گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور کیوبا کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کئی دہائیوں سے تناؤ کا شکار رہے ہیں۔
