سیاست
نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم اضلاع کا حصہ شامل ہوگا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق اور صوبے کے مالی مفادات کا بھرپور انداز میں مقدمہ پیش کیا گیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ 180 دنوں کے اندر نئے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقررہ مدت میں اتفاق رائے نہ ہو سکا تو صدر مملکت کو سمری ارسال کر کے صدارتی آرڈر کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا، جو خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے ایک بڑی پیش رفت اور خوشخبری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ضم اضلاع کے اے آئی پی اور اے ڈی پی فنڈز میں مجوزہ کٹوتیوں کے معاملے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے اور اس سلسلے میں مزید بہتری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق پاسکو کے ساتھ معاہدے کے تحت خیبرپختونخوا کو ایک لاکھ پچھتر ہزار ٹن گندم مقررہ نرخ پر فراہم کی جائے گی جبکہ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گندم کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے اور 5 اکتوبر 2025 سے اب تک پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار بڑھانے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت اور امن و امان صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت کارڈ، احساس پروگرام، شیلٹر ہومز، زمنگ کور اور “کوئی بھوکا نہ سوئے” جیسے فلاحی منصوبے جاری رہیں گے۔
انہوں نے جنگلات کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کے مجموعی جنگلات کا تقریباً 45 فیصد حصہ خیبرپختونخوا میں موجود ہے جبکہ صوبے کے کل رقبے کا 26.7 فیصد جنگلات پر مشتمل ہے۔ حکومت نجی اراضی پر اگائے گئے درخت بھی خریدے گی اور شجرکاری کو فروغ دینے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔
