سیاست
امریکا اور ایران میں کیا معاہدہ طے پایا؟ اہم تفصیلات اور عالمی ردِعمل سامنے آگیا
آبنائے ہرمز کھولنے، پابندیوں میں نرمی اور جنگ بندی پر اتفاق؛ معاہدے پر دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک امن معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں، جس کے تحت فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور مزید سفارتی مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر سب سے پہلے اس معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق لبنان سمیت خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے بھی یہ معاہدہ اہم کردار ادا کرے گا۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے”۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا جبکہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں متعدد اہم نکات شامل ہیں۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جبکہ لبنان سمیت خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی اور تیل کی ترسیل کے لیے دوبارہ کھولنے، ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی لانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
مسودے کے مطابق ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیاں معطل کی جائیں گی جبکہ 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ مزید برآں ایران کی تعمیرِ نو اور اقتصادی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے ایک بڑے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔ معاہدے میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر آئندہ 60 دنوں کے اندر باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ دونوں فریق مستقبل میں ایک جامع اور مستقل امن معاہدے کے لیے سفارتی عمل جاری رکھنے پر بھی متفق ہوئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون 2026 بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔ اس سے قبل ثالثی کرنے والے ممالک کی نگرانی میں متعدد تکنیکی اور سفارتی اجلاس منعقد ہوں گے تاکہ معاہدے پر عملدرآمد کا طریقہ کار طے کیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدے کے اعلان میں اہم کردار ادا کیا اور دنیا کو اس پیش رفت سے سب سے پہلے آگاہ کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ تعریف ہے اور اس نے خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم سفارتی خدمات انجام دی ہیں۔
عالمی رہنماؤں کا خیر مقدم
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مزید مذاکرات کا فریم ورک تنازع کے پرامن حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور اس مقصد کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی اور دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے پاکستان، قطر، سعودی عرب اور دیگر ثالثی کرنے والے ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
