Connect with us

تجارت

رولیکس نے سونے کی گھڑیوں کی قیمتیں دوبارہ بڑھا دیں، مہنگائی کے باوجود امیر خریداروں کا شوق برقرار

Published

on

دنیا کی معروف لگژری گھڑی ساز کمپنی رولیکس نے رواں سال دوسری بار اپنی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سونے کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور امیر صارفین کی مضبوط طلب کے باعث کمپنی نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق رولیکس نے جولائی میں دنیا بھر کی بڑی مارکیٹوں، بشمول امریکہ، برطانیہ اور ہانگ کانگ میں اپنی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں اوسطاً پانچ فیصد اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل کمپنی جنوری میں بھی قیمتوں میں اضافہ کر چکی تھی، تاہم اس وقت اضافہ محدود نوعیت کا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مہنگائی کے باعث جہاں متوسط طبقہ اپنی غیر ضروری خریداریوں میں کمی کر رہا ہے، وہیں امیر ترین خریدار اب بھی مہنگی گھڑیوں کو نہ صرف ایک لگژری شے بلکہ ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود رولیکس اور دیگر معروف برانڈز کی فروخت متاثر نہیں ہو رہی۔

رولیکس کی حریف کمپنی کارٹیئر نے بھی حال ہی میں اپنی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں دس فیصد تک اضافہ کیا تھا۔ کارٹیئر کی مالک کمپنی نے اس اضافے کی وجہ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو قرار دیا تھا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق 2024 کے بعد سے عالمی سطح پر سونے کی قیمت تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں رولیکس، کارٹیئر، بریٹلنگ، شوپارڈ اور دیگر لگژری برانڈز کو اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑی ہیں۔

رولیکس کے بعض مشہور ماڈلز میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر کاسموگراف ڈیٹونا وائٹ گولڈ ماڈل کی قیمت امریکہ میں 59 ہزار ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ سے مہنگی گھڑیوں کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق 20 ہزار سوئس فرانک سے زائد قیمت والی گھڑیوں کی عالمی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب یہ شعبہ مجموعی برآمدات کا بڑا حصہ بن چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رولیکس کی مقبولیت، محدود سپلائی اور برانڈ کی مضبوط ساکھ کے باعث اس کی گھڑیوں کی طلب ہمیشہ رسد سے زیادہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود خریداروں کی دلچسپی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر سونے کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں اور عالمی سطح پر امیر صارفین کی خریداری جاری رہی تو آنے والے مہینوں میں لگژری گھڑیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *