تجارت
جنگ کے باوجود آبنائے ہرمز سے ایل این جی اور تیل بردار جہاز پاکستان، چین اور بھارت روانہ
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں شدید کشیدگی پائی جارہی ہے، تاہم اس کے باوجود ایل این جی اور خام تیل بردار کئی جہاز خلیج سے نکل کر پاکستان، چین اور بھارت کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران تین مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرچکے ہیں جبکہ عراقی خام تیل سے بھرا ایک سپر ٹینکر تقریباً تین ماہ بعد خلیج سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 28 فروری سے جاری امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نے آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کیلئے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
ایل این جی بردار جہاز ’’فویریت‘‘ پیر کے روز آبنائے ہرمز عبور کرگیا جبکہ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ وہ منگل کو پاکستان پہنچ کر اپنا کارگو اتارے گا۔ یہ جہاز قطر کی راس لفان بندرگاہ سے مارچ کے آخر میں روانہ ہوا تھا۔
اسی طرح ’’الریان‘‘ نامی ایل این جی ٹینکر بھی آبنائے ہرمز عبور کرچکا ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز 27 جون کو چین میں اپنا کارگو اتارے گا۔
ادھر ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے زیر انتظام ’’الحمرا‘‘ نامی جہاز بھی آبنائے عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور اس وقت بھارت کے ساحل کے قریب موجود ہے۔
علاوہ ازیں ’’ایگل ویرونا‘‘ نامی سپر ٹینکر، جو ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے نکلا تھا، چین کی بندرگاہ ننگبو پہنچنے والا ہے جہاں وہ تقریباً 20 لاکھ بیرل بصرہ خام تیل اتارے گا۔
رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل روزانہ 125 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، تاہم موجودہ کشیدگی کے باعث بحری سرگرمیاں انتہائی محدود ہوچکی ہیں جبکہ خلیج میں موجود سینکڑوں جہازوں پر سوار تقریباً 20 ہزار ملاح اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
