تجارت
ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے، اسپیس ایکس کی تاریخی کامیابی نے ریکارڈ قائم کر دیا
امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے معروف نام ایلون مسک نے عالمی معاشی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ اسپیس ایکس کے شیئرز کی تاریخی عوامی پیشکش کے بعد ایلون مسک دنیا کے پہلے باضابطہ کھرب پتی بن گئے ہیں اور ان کی مجموعی دولت ایک ہزار ارب ڈالر کی حد عبور کر گئی ہے۔
نیویارک کے ناسڈیک اسٹاک ایکسچینج میں اسپیس ایکس کے شیئرز پہلی بار عوامی فروخت کے لیے پیش کیے گئے، جہاں سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ کمپنی کے شیئرز کی قیمت ابتدائی سطح سے تیزی سے بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں اسپیس ایکس کی مجموعی مالیت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ایلون مسک کی دولت کا حجم اب کئی ممالک کی سالانہ اقتصادی پیداوار کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق ان کے اثاثوں کی مالیت پولینڈ اور سعودی عرب جیسی بڑی معیشتوں کے حجم کے قریب جا پہنچی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی معیشت، جس کا حجم تقریباً 411 ارب ڈالر بتایا جاتا ہے، ایلون مسک کی ذاتی دولت کے مقابلے میں کہیں چھوٹی نظر آتی ہے۔ تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ کسی ملک کی معیشت اور کسی فرد کی دولت کا موازنہ مکمل طور پر یکساں نہیں ہوتا، کیونکہ معیشت سالانہ پیداوار کی نمائندگی کرتی ہے جبکہ دولت مجموعی اثاثوں کی مالیت کو ظاہر کرتی ہے۔
ایلون مسک نے اس موقع پر اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اسپیس ایکس کا آغاز انتہائی محدود وسائل سے کیا گیا تھا اور ان کا اصل مقصد انسانیت کو مریخ تک پہنچانے کے خواب کو حقیقت میں بدلنا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسک کی دولت میں ریکارڈ اضافہ صرف اسپیس ایکس کی کامیابی کا نتیجہ نہیں بلکہ ٹیسلا، اسٹار لنک اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرگرم ایکس اے آئی کی تیزی سے ترقی بھی اس میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اگرچہ اس کامیابی کو جدید کاروباری دنیا کی ایک تاریخی مثال قرار دیا جا رہا ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث ایسی دولت میں نمایاں کمی بھی آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ غیر معمولی دولت دنیا بھر میں بڑھتی معاشی عدم مساوات اور امیر و غریب کے درمیان وسیع ہوتے فرق پر نئی بحث کو بھی جنم دے رہی ہے۔
