Connect with us

سیاست

امریکی انٹیلیجنس رپورٹ: ایران مزید 4 ماہ تک بحری ناکہ بندی برداشت کر سکتا ہے

Published

on

امریکی انٹیلیجنس کے ایک نئے تجزیے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود تقریباً مزید چار ماہ تک شدید معاشی دباؤ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

سی آئی اے سے منسلک رپورٹ کے مطابق اگر ایران کی بندرگاہوں اور بحری تجارت کو محدود بھی کر دیا جائے تب بھی تہران فوری معاشی تباہی کا شکار نہیں ہوگا اور کچھ عرصے تک اپنی معیشت کو سنبھال سکتا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ تجزیہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران پر امریکی دباؤ اپنی مکمل تاثیر دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ ایک امریکی عہدے دار نے اعتراف کیا کہ واشنگٹن تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق خلیج میں حالیہ حملوں اور بمباری کے تبادلے کے بعد جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔

آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں حالیہ دنوں کے دوران جھڑپوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو ایک ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سب سے شدید کشیدگی قرار دی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات پر بھی تازہ حملے کیے گئے ہیں۔

تاہم ایک سینئر امریکی انٹیلیجنس عہدے دار نے سی آئی اے تجزیے کے بعض حصوں کو ’’گمراہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ناکہ بندی ایران کی معیشت کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کے مطابق تجارت متاثر ہو رہی ہے، آمدنی کم ہو رہی ہے اور ایرانی معاشی نظام تیزی سے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔

سفارتی سطح پر امریکا اس وقت ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے جو ایک امریکی تجویز کے حوالے سے دیا جانا ہے۔ اس تجویز میں جنگ کے باضابطہ خاتمے اور بعد ازاں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر حساس معاملات پر مذاکرات کی بات کی گئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو جلد ایران کا جواب موصول ہونے کی توقع ہے، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران ابھی اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *