سیاست
جنگ بندی کے باوجود ایران کی عسکری سرگرمیاں تیز، میزائل اور ہتھیار دوبارہ حاصل کرنے کی کوششیں
امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران جنگ بندی کے دوران اپنی عسکری صلاحیت کو بحال کرنے کے لیے سرگرم ہو گیا ہے اور امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ملبے تلے دبے ہتھیاروں اور میزائلوں کو دوبارہ نکالنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے این بی سی نیوز نے ایک امریکی عہدیدار اور دیگر باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حکام ان ہتھیاروں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کر رہے ہیں جہاں حملوں کے بعد اسلحہ تباہ یا دفن ہو گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایران خاص طور پر اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو جلد از جلد بحال کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی یا نئی فوجی کارروائی کی صورت میں مؤثر جواب دیا جا سکے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقبل میں دوبارہ فوجی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایران اپنی بحال شدہ عسکری طاقت کے ذریعے خطے میں جوابی حملوں کی صلاحیت رکھنا چاہے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی یہ سرگرمیاں مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں اور خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم ایران کی جانب سے اب تک ان رپورٹس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مستقبل میں خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
