Connect with us

تجارت

آدھا فلیٹ گراؤنڈ ہونے کے باوجود پی آئی اے کے اربوں کے منافع، نجکاری کا عمل دسمبر کے آخر تک مؤخر

Published

on

قومی ایئرلائن پی آئی اے نے اس سال کے پہلے چھ ماہ میں صرف 14 سے 16 طیاروں کے ساتھ 11 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا ہے، حالانکہ اس کے مجموعی 32 جہازوں میں سے 16 طیارے انجن و اسپیئر پارٹس کی خرابی کے سبب گراؤنڈ ہیں۔

پی آئی اے ذرائع کے مطابق کم فلیٹ کے باوجود کینیڈا، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب، امارات اور دیگر ممالک کے لیے پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ گزشتہ برس ادارے نے 26 ارب 20 کروڑ روپے منافع کمایا تھا، اور اس سال بھی بہتر کارکردگی جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تمام جہاز بروقت مرمت ہو کر آپریشن میں شامل ہو جائیں تو مزید 2 سے 3 ارب روپے کا اضافہ ممکن ہے، اور شاید نجکاری کی ضرورت ہی نہ رہے۔

دوسری جانب نجکاری کا عمل پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ نجکاری کمیشن کے ذرائع کے مطابق دسمبر کے پہلے ہفتے کے بجائے اب یہ عمل دسمبر کے آخری ہفتے میں متوقع ہے۔ نجکاری میں حصہ لینے والی بڑی کمپنیوں میں فوجی فرٹیلائزر، حبیب رفیق، یونس برادرز اور ایئر بلیو شامل ہیں۔ دسمبر میں ہونے والی بڈنگ فیصلہ کرے گی کہ پی آئی اے کس کمپنی کے حصے میں جاتی ہے۔

پی آئی اے کے ذرائع کے مطابق جو بھی کمپنی پی آئی اے خریدے گی اسے 300 سے 400 ارب روپے کی اضافی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ نجکاری میں پی آئی اے کی اندرون و بیرون ملک موجود اربوں روپے کی جائیدادیں شامل نہیں ہیں۔ یہ اثاثے پہلے ہی پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔ نجکاری میں صرف چار بڑے دفاتر—اسلام آباد، کراچی، پشاور اور راولپنڈی—شامل ہوں گے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *