تجارت
اسٹیٹ بینک نے شرح سود 11.5 فیصد کر دی، مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش
اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ 9 مارچ 2026 کے اجلاس میں مرکزی بینک نے شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا۔ تاہم حالیہ عالمی کشیدگی اور معاشی دباؤ کے باعث اس بار ماہرین کی رائے منقسم رہی۔
بزنس ریکارڈر کے ڈائریکٹر ریسرچ علی خضر نے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی تجویز دی تھی۔ ان کے مطابق اگر پالیسی ریٹ میں اضافہ نہ کیا جاتا تو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی تھی، اس لیے ایک محتاط اضافہ ضروری تھا۔
دوسری جانب عارف حبیب لمیٹڈ نے شرح سود برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال میں محتاط پالیسی اپنانا زیادہ مناسب ہے۔
اسی طرح ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی کی تھی تاکہ تیل کی بڑھتی قیمتوں اور درآمدی دباؤ کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔ کمپنی کے سروے کے مطابق 53 فیصد شرکاء شرح سود میں اضافے کے حق میں تھے۔
ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے سے مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
