Connect with us

ٹیکنالوجی

ڈیجیٹل خطرات میں اضافہ: حکومت کا وفاقی سطح پر نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

Published

on

بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اور سائبر خطرات کے پیشِ نظر حکومت نے وفاقی سطح پر نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ملک کے اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ اور سائبر سیکیورٹی اقدامات کی نگرانی کرے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق نئی اتھارٹی کا بنیادی کردار سائبر خطرات کے خلاف حفاظتی اقدامات کی سفارش، ان پر عملدرآمد کی نگرانی اور ملک بھر میں سائبر سیکیورٹی کے نظام کو مربوط بنانا ہوگا۔

وزارتِ آئی ٹی پہلے ہی سائبر سیکیورٹی ایکٹ کا مسودہ تیار کر کے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے لیے بھجوا چکی ہے۔ اسی کے ساتھ نیشنل سائبر سیکیورٹی پالیسی — جو ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروگرام کا حصہ ہے — پر کام جاری ہے۔

یہ فیصلہ وزارت آئی ٹی کی جانب سے قومی اسمبلی میں دیے گئے اس اعتراف کے بعد سامنے آیا ہے کہ پاکستان کو حالیہ برسوں میں کئی بڑے سائبر حملوں اور ڈیٹا چوری کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ معاملے کی حساسیت کے باعث مکمل تفصیلات عام نہیں کی گئیں، تاہم انہیں ان کیمرا بریفنگ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

وزارت کی رپورٹ میں کئی بنیادی چیلنجز کی نشاندہی کی گئی، جن میں ماہر سائبر سیکیورٹی اسٹاف کی شدید کمی، کمزور مانیٹرنگ نظام، اور ادارہ جاتی رپورٹنگ کا فقدان شامل ہے — جن کی وجہ سے متعدد حملے بروقت سامنے نہیں آتے۔

ایک بڑا سائبر حملہ او جی ڈی سی ایل پر ہوا، جہاں ہیکرز نے کور ڈیٹا سینٹر تک رسائی حاصل کر کے 21 ورچوئل سرورز حذف کر دیے۔ کمپنی نے تین روز بعد ڈیزاسٹر ریکوری سسٹم کے ذریعے آپریشن بحال کیا۔

رپورٹ میں ان حملوں کی وجوہات کے طور پر ناکافی فنڈنگ، مخصوص سائبر سیکیورٹی عملے کی عدم موجودگی، سینئر مینجمنٹ کی کمزور نگرانی اور مؤثر گورننس فریم ورک کا فقدان شامل ہے۔

دوسری جانب وزارت آئی ٹی کی دستاویزات کے مطابق سکیور ڈیٹا ایکسچینج لیئر اور ڈیجیٹل شناختی منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔ نادرا، ایف بی آر، ٹیلی کام آپریٹرز اور دیگر اہم اداروں کا ڈیٹا ’کریٹیکل ڈیجیٹل انفراسٹرکچر‘ قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ امیگریشن اور پاسپورٹ سسٹمز کو بھی اسی درجہ بندی میں شامل کرنے پر غور ہو رہا ہے۔

جب تک نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی باقاعدہ فعال نہیں ہوتی، ملک میں سائبر حملوں سے نمٹنے کی ذمہ داری سی ای آر ٹی کونسل ادا کرتی رہے گی، جس میں 14 سرکاری و نجی ادارے شامل ہیں۔