سیاست
گلگت بلتستان انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، نتائج کے ساتھ انتخابی شفافیت پر بھی سوالات
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر ہونے والے عام انتخابات کے غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، جبکہ مختلف حلقوں میں آزاد امیدواروں نے بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب فارم 45 کی فراہمی میں تاخیر اور مبینہ انتخابی مداخلت کے الزامات نے انتخابی عمل کی شفافیت پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا اور شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔ گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز کے مطابق مجموعی طور پر پولنگ پرامن ماحول میں مکمل ہوئی اور امن و امان کی صورتحال تسلی بخش رہی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ووٹرز کی شرکت بھی قابلِ ذکر رہی جبکہ پولنگ عملہ اور سکیورٹی اداروں نے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دیں۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق 24 میں سے 17 حلقوں کے نتائج موصول ہونے تک پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کر چکی تھی۔ آزاد امیدواروں نے 6 نشستیں جیتیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حصے میں 2 نشستیں اور مجلس وحدت مسلمین کے حصے میں ایک نشست آئی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ابتدائی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں “تیر برس رہا ہے” اور ان کی جماعت خطے کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھر رہی ہے۔ انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت سازی کی کوششوں کا اعلان بھی کیا۔
مختلف حلقوں کے نتائج کے مطابق جی بی اے-1 گلگت ون سے پیپلز پارٹی کے امجد حسین، جی بی اے-4 نگر ون سے محمد علی اختر، جی بی اے-5 نگر ٹو سے ذوالفقار علی مراد، جی بی اے-7 اسکردو ون سے سید توقیر مہدی، جی بی اے-9 اسکردو تھری سے فدا محمد ناشاد، جی بی اے-10 اسکردو فور سے ناصر علی خان، جی بی اے-12 شگر سے عمران ندیم اور جی بی اے-19 غذر ون سے سید جلال شاہ کامیاب قرار پائے۔
ادھر جی بی اے-3 گلگت تھری سے آزاد امیدوار سید سہیل عباس، جی بی اے-6 ہنزہ سے نیک نام کریم، جی بی اے-21 غذر تھری سے امان علی، جی بی اے-23 گانچھے ٹو سے انور علی اور جی بی اے-24 گانچھے تھری سے ڈاکٹر اسد شفیق نے کامیابی حاصل کی۔
مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عبدالجہان نے جی بی اے-20 غذر ٹو جبکہ محمد ابراہیم صنائی نے جی بی اے-22 گانچھے ون میں کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم نے جی بی اے-8 اسکردو ٹو سے کامیابی سمیٹی۔
انتخابی نتائج کے ساتھ ساتھ فارم 45 کی فراہمی میں تاخیر کے معاملے نے بھی سیاسی ماحول کو گرم کر دیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نیئر حسین بخاری، قمر زمان کائرہ اور ندیم افضل چن نے الزام عائد کیا کہ بعض مقامات پر فارم 45 جاری کرنے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ندیم افضل چن نے دعویٰ کیا کہ بعض وفاقی وزراء انتظامی مشینری پر دباؤ ڈال کر انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا مینڈیٹ چرایا نہیں جا سکتا اور الیکشن کمیشن کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔
دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے تمام ریٹرننگ افسران کو ہدایت جاری کی کہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد فارم 45 فوری طور پر جاری کیا جائے اور تمام قانونی تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان بھر میں 1,391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں 488 نارمل، 349 حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے تھے۔ انتخابات کے لیے 17 ہزار 500 سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ رہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے ان انتخابات میں مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں تھے جن میں 396 مرد اور 8 خواتین امیدوار شامل تھیں، جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 تھی۔
ابتدائی نتائج سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، تاہم باقی نشستوں کے نتائج آنے اور ممکنہ اتحادوں کی تشکیل کے بعد ہی گلگت بلتستان میں آئندہ حکومت کی حتمی تصویر سامنے آ سکے گی۔
