اہم خبریں
ہر انسان کی آواز منفرد کیوں ہوتی ہے؟ سائنسدانوں کی دلچسپ تحقیق سامنے آگئی
انسانی آواز کائنات کی سب سے منفرد اور ذاتی پہچانوں میں شمار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسان اپنے کسی عزیز یا دوست کی آواز کو محض چند الفاظ سن کر فوری پہچان لیتا ہے، اور یہ عمل دماغ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں مکمل کر لیتا ہے۔
سائنسی تحقیق کے مطابق دنیا کے اربوں انسانوں میں کسی بھی دو افراد کی آواز سو فیصد ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ صرف جسمانی پیچیدگی نہیں بلکہ انسانی ارتقاء کا وہ عمل بھی ہے جس نے انسان کے وائس سسٹم کو دیگر جانداروں سے مختلف بنا دیا۔
سال 2022 میں ”نیشنل لائبریری آف میڈیسن“ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بندروں اور دیگر پرائی میٹس کے گلے میں ووکل کورڈز کے ساتھ اضافی ووکل ممبرین اور ہوا کی تھیلیاں موجود ہوتی ہیں، جبکہ انسانوں میں ارتقاء کے دوران یہ اضافی حصے ختم ہو گئے۔
ماہرین کے مطابق انہی تبدیلیوں کی وجہ سے انسانی وائس باکس زیادہ مستحکم ہو گیا، جس کے نتیجے میں انسان صاف، متوازن اور کنٹرول شدہ آواز پیدا کرنے کے قابل ہوا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آواز جب ووکل فولڈز سے نکلتی ہے تو گلے، ناک اور منہ سے گزرتے ہوئے ایک مخصوص گونج پیدا کرتی ہے۔ سائنسدان اس گونج کو ”فارمنٹس“ کہتے ہیں، اور یہی فارمنٹس ہر انسان کی آواز کو منفرد بناتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ووکل ٹریک کی لمبائی، منہ اور تالو کی ساخت، گلے کی گہرائی، کھوپڑی اور سائنَسز کی بناوٹ آواز کے فرق میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہی اپنی والدہ کی آواز پہچاننا شروع کر دیتا ہے، جبکہ انسانی ارتقاء نے منفرد آوازوں کو اس لیے فروغ دیا تاکہ لوگ ہجوم، جنگلات یا اندھیرے میں بھی ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔
ماہرین کے مطابق انسان کی آواز صرف آواز نہیں بلکہ اس کے جسمانی اور ارتقائی سفر کا ایک منفرد صوتی دستخط ہے۔
