Connect with us

سیاست

امریکا کا جرمنی سے 5 ہزار فوجی واپس بلانے کا فیصلہ، یورپ سے اختلافات مزید گہرے

Published

on

امریکا نے نیٹو اتحادی جرمنی سے 5 ہزار فوجیوں کے انخلا کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی ممالک کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق یہ فوجی انخلا آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا۔ جرمنی میں اس وقت تقریباً 35 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جو یورپ میں امریکی فوج کی سب سے بڑی موجودگی ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران جنگ اور امریکا کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران مذاکرات میں امریکا کو سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور واشنگٹن کی حکمت عملی واضح نہیں۔

ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے جرمن قیادت کے بیانات کو “نامناسب اور غیر مددگار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اتحادی ممالک کے ایسے رویے پر ردعمل دے رہے ہیں۔

پینٹاگون حکام کے مطابق فوجیوں کی تعداد کو 2022 سے پہلے کی سطح پر واپس لایا جا رہا ہے، یعنی اس دور کی سطح پر جب روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکا نے یورپ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی تھی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ یورپی ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالیں۔ اس فیصلے کو یورپی اتحادیوں کے لیے ایک واضح پیغام بھی قرار دیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اب اپنی ترجیحات تبدیل کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں اسپین اور اٹلی سمیت کئی یورپی اتحادیوں پر بھی سخت تنقید کر چکے ہیں، خصوصاً اس معاملے پر کہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں مکمل حمایت فراہم نہیں کی۔

دوسری جانب جرمن حکام کا کہنا ہے کہ جرمنی نے ایران جنگ کے دوران امریکا کو فوجی اڈے، فضائی راستے اور دیگر سہولیات فراہم کیں، اس لیے فوجی انخلا کا فیصلہ حیران کن ہے۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے امریکا اور یورپ کے درمیان دفاعی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ یورپی ممالک اپنی دفاعی پالیسیوں پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *