سیاست
امریکا کی جانب سے اسرائیل کو ہزاروں ٹن فوجی سامان کی فراہمی، خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایک بڑے لاجسٹک آپریشن کے تحت اسے مزید 6,500 ٹن فوجی ساز و سامان فراہم کیا ہے، جس میں گولہ بارود، فوجی ٹرکس، جدید جنگی گاڑیاں اور دیگر عسکری آلات شامل ہیں۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ سامان فضائی اور بحری راستوں کے ذریعے اسرائیل پہنچایا گیا، جبکہ اشدود اور حیفہ کی بندرگاہوں پر دو بڑے کارگو بحری جہازوں کے ذریعے اسلحہ اور فوجی سامان اتارا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کھیپ میں فضائی اور زمینی ہتھیاروں کے ہزاروں یونٹس شامل ہیں، جنہیں بین الاقوامی سطح پر مربوط لاجسٹک آپریشن کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے جاری فضائی اور بحری پل کے تحت اب تک 115,600 ٹن سے زائد فوجی سامان اسرائیل منتقل کیا جا چکا ہے۔ یہ ترسیل 403 فضائی اور 10 بحری مشنز کے ذریعے مکمل کی گئی۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ امریکا کا یہ تعاون اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دینے کے لیے نہایت اہم ہے۔
وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ریٹائرڈ امیر بارم نے کہا کہ مسلسل کارگو پروازیں اور بحری جہاز اسرائیل کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور آنے والے ہفتوں میں اس عمل میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس سمجھی جا رہی ہے۔
