سیاست
پشاور یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ
پشاور یونیورسٹی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ جامعہ اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے اور صوبائی حکومت مالی اور انتظامی طور پر ادارے کے معاملات چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ اور انتظامی افسران کی نمائندہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر ذاکراللہ جان نے کی۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں یونیورسٹی کے ملازمین میں پائی جانے والی شدید مایوسی، اضطراب اور بے چینی کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ شرکا نے یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے میں مسلسل ناکامی پر شدید احتجاج کیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں یونیورسٹی کے بڑھتے ہوئے مالی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، جس کے باعث تعلیمی اور انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت پشاور یونیورسٹی کے معاملات چلانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کو وفاق کے حوالے کیا جائے، کیونکہ یہی فیصلہ یونیورسٹی اور خیبر پختونخوا کے عوام کے بہترین مفاد میں ہوگا۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر ملازمین کے جائز مطالبات، بالخصوص تنخواہوں اور پنشن کی فوری ادائیگی، بلا تاخیر پوری نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔
