سیاست
ایران سے 2 سے 3 دن میں معاہدہ ہو سکتا ہے، اسرائیل اور ایران حملے روکنے پر آمادہ ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ آئندہ دو سے تین دن کے اندر طے پا سکتا ہے، جبکہ اسرائیل اور ایران کم از کم ایک ہفتے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں روکنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔
نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور ایران ایک دوسرے پر حملے کر رہے تھے لیکن اب دونوں نے عارضی طور پر کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ایسے معاہدے کے آخری مراحل جاری ہیں جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے میں مؤثر ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق یہ ایک “بہت اچھا معاہدہ” ہوگا جس سے خطے میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحال اور کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں پائی جانے والی بے چینی کم ہونے کی توقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہیں ایران کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں عندیہ دیا گیا کہ اگر اسرائیل کارروائیاں بند کر دے تو تہران بھی حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے بقول ایرانی مذاکرات کار معاہدے کے لیے لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ خطے میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی علاقائی ممالک نے بھی نیتن یاہو کو کشیدگی کم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
امریکی صدر کے ان بیانات نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے نئی سفارتی امیدوں کو جنم دیا ہے، تاہم ابھی تک متعلقہ فریقین کی جانب سے کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
