Connect with us

اہم خبریں

موسمیاتی تبدیلی ایک صنفی مسئلہ ہے

Published

on

تحریر: سلمان ناصر خان

خواتین کے لیے موسمیاتی تبدیلی ایک دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف وہ اس کے منفی اثرات کا غیر متناسب بوجھ اٹھاتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق موسمیاتی آفات کے باعث بے گھر ہونے والے افراد میں 80 فیصد خواتین شامل ہوتی ہیں اور وہ مردوں کے مقابلے میں 14 گنا زیادہ جان لیوا خطرات کا شکار ہوتی ہیں۔ دوسری طرف عالمی سطح پر موسمیاتی اقدامات میں نہ تو خواتین کی ضروریات کو خاطر خواہ اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ہی فیصلہ سازی کے عمل میں انہیں شامل کیا جاتا ہے، حالانکہ بحران کے وقت کمیونٹی کی حفاظت اور تنظیم میں ان کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔

یہ صورتحال پائیدار نہیں ہے۔ آج جب پالیسی اور رسپانس میکانزم خواتین کی ضروریات کو نظرانداز کر رہے ہیں، وہیں یہ نظام ان علم اور قیادت کو بھی شامل کرنے میں ناکام ہیں جو خواتین فراہم کر سکتی ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک صنفی مسئلہ ہے۔

سماجی اور معاشی حقائق یہ طے کرتے ہیں کہ آفات لوگوں کو کیسے متاثر کرتی ہیں۔ خواتین پر دیکھ بھال، پانی لانے، کھانا پکانے اور صفائی جیسے گھریلو کاموں کا زیادہ بوجھ ہوتا ہے۔ شدید موسم میں انہیں گھر کو چلانے کے لیے مزید محنت کرنا پڑتی ہے۔ اکثر گھر کی نوجوان لڑکیاں اور بچیاں بھی تعلیم یا روزگار چھوڑ کر خاندان کی دیکھ بھال میں مدد کرتی ہیں۔ ہیٹ ویوز کے دوران پانی لانا یا گرم چولہے پر کھانا پکانا ہیٹ اسٹروک جیسے خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔

بدقسمتی سے یہ ذمہ داریاں اکثر وسائل یا فیصلے کی آزادی کے بغیر انجام دی جاتی ہیں۔ زیادہ تر معاشروں میں مالی وسائل اور فیصلوں پر مردوں کا کنٹرول ہوتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں یہ فرق زیادہ واضح ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین کسانوں کے نام زمین نہیں ہوتی، جس کے باعث وہ اس زمین کے بدلے قرض بھی نہیں لے سکتیں جس پر وہ خود محنت کرتی ہیں۔ اگر وہ خشک سالی کے پیش نظر کم پانی والی فصلیں اپنانا چاہیں تو یہ فیصلہ بھی ان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔

شہری علاقوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ کووڈ-19 کے دوران یہ واضح ہوا کہ غیر رسمی شعبے کی نوکریاں—جن میں خواتین کی اکثریت ہوتی ہے—سب سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں۔ آفات کے بعد جب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں تو خواتین کی حفاظت اور نقل و حرکت مزید خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

یہ صنفی حقائق اس بات کا مطلب نہیں کہ خواتین بے بس ہیں یا ان کے پاس کوئی کردار نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انہیں شامل کیا جائے تو موسمیاتی پالیسیوں کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ بھارت میں حکومت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے خواتین کو مالی وسائل اور تربیت دی جا رہی ہے تاکہ ان کی قیادت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اوڈیشہ میں 300 سے زائد خواتین کو کلائمیٹ چیمپئنز کے طور پر تربیت دی گئی ہے، جس میں بھارت کی حکومت، گرین کلائمیٹ فنڈ اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے تعاون کیا۔ یہ خواتین پائیدار زراعت، نامیاتی بیجوں کے استعمال، کیڑوں کے قدرتی کنٹرول، اور مینگروو جنگلات کی بحالی جیسے کاموں میں مصروف ہیں جو ساحلی علاقوں کو طوفانی لہروں سے بچاتے ہیں۔ وہ اپنی کمیونٹی کو آفات سے نمٹنے کی تربیت بھی فراہم کر رہی ہیں۔

پنجاب سندھ میں خواتین مزدوروں کو شدید گرمی کے دوران خودکار مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ اگر درجہ حرارت مسلسل دو دن تک خطرناک حد تک بلند رہے تو خواتین کو فوری نقد ادائیگی کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کا سالانہ پریمیم صرف 250 روپے ہے۔

خواتین کو زمین کی ملکیت، قرض، انشورنس اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ روزگار تک بہتر رسائی دی جانی چاہیے، خصوصاً زراعت اور غیر رسمی معیشت میں۔ آفات سے نمٹنے اور امدادی نظام میں بھی خواتین کی حفاظت، صفائی اور نقل و حرکت کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ موسمیاتی لچک صرف اسی صورت ممکن ہے جب یہ نظام شمولیت پر مبنی ہو۔ خواتین کو فیصلہ سازی کے مرکز میں لانا ہی مؤثر موسمیاتی پالیسی کی ضمانت ہے۔

یہ مضمون راک فیلر فاؤنڈیشن کی سینئر نائب صدر اور ایشیا ہیڈ دیپالی کھنہ کی تحقیق سے اخذ کردہ ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *