سیاست
اسلامی امارت علاقائی امن و استحکام کی پابند، افغانستان کسی کے لیے خطرہ نہیں: سراج الدین حقانی
افغانستان کے وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے واضح کیا ہے کہ اسلامی امارت علاقائی سلامتی اور استحکام کی مکمل پابند ہے اور افغان عوام کسی بھی ملک کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔
افغان ٹیلی وژن چینل طلوع نیوز کے مطابق سراج الدین حقانی نے یہ بات کابل میونسپلٹی اور دیگر اداروں کی کارکردگی کے اعتراف میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستانی مذہبی علماء اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات کا خیرمقدم کیا۔
افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ ایسے بیانات کی قدر کرتے ہیں جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے افغانستان کے بارے میں مثبت بیانات خوش آئند ہیں اور خیرسگالی و برادرانہ پیغامات کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں۔
انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی کے افغانستان کے حق میں دیے گئے بیانات کا بھی ذکر کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
سراج الدین حقانی نے اس موقع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی امارت علاقائی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان عوام نہ تو کسی کے خلاف کوئی خطرہ رکھتے ہیں اور نہ ہی ایسے کوئی عزائم رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب افغانستان میں امن اور سلامتی قائم ہوتی ہے تو وہ دنیا کو بھائی چارے اور امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر موجود خدشات کو دور کرنا چاہتا ہے اور سب کو یقین دلانا چاہتا ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
افغان وزیر داخلہ نے عالمی برادری سے افغانستان کی تعمیر نو میں کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی اور افغان عوام پر زور دیا کہ وہ اس عمل میں اسلامی امارت کا ساتھ دیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے لیے خیرسگالی رکھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔ انہوں نے کابل میں ہونے والے علماء کے اجتماع کے بیان کا بھی خیرمقدم کیا تھا جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
