Connect with us

سیاست

بجٹ 2026-27 ریلیف پر مبنی ہے، تنخواہ دار طبقے، نوجوانوں اور صنعت کو فائدہ دیا گیا: عطاء اللہ تارڑ

Published

on

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ ماضی کے بجٹس سے مختلف اور عوامی ریلیف پر مبنی ہے، جس میں تنخواہ دار طبقے، صنعت، برآمد کنندگان، کسانوں اور نوجوانوں کے لیے متعدد سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔

آن لائن بریفنگ کے دوران عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بعض عناصر تنقید برائے تنقید کی سیاست کرتے ہیں، تاہم بجٹ کی مثبت خصوصیات کے باعث مخالفین بھی اس کی تعریف کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں ملک کی معیشت کو سنبھالا اور عوامی ریلیف کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے وژن اور وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے معاشی استحکام کے لیے اہم فیصلے کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاملات طے نہ پاتے تو ملک کو ڈیفالٹ کے خطرات کا سامنا ہو سکتا تھا، تاہم حکومت کی کوششوں سے پاکستان کامیابی کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ بنا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران وزیر اعظم مسلسل عوامی ریلیف کی بات کرتے رہے اور حکومت نے صرف گنجائش کا انتظار کرنے کے بجائے معاشی اصلاحات کے ذریعے خود گنجائش پیدا کی۔

انہوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات نافذ کی گئیں، سفارش کلچر کا خاتمہ کیا گیا اور ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا گیا۔ ان کے مطابق کسٹمز اور انکم ٹیکس کے شعبوں میں میرٹ پر مبنی نظام متعارف کروایا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بندرگاہوں پر فیس لیس اپریزل سسٹم نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کا کسٹمز افسران سے براہ راست رابطہ ختم ہو گیا ہے۔ اس نظام سے کاروباری عمل میں تیزی آئی ہے اور غیر ضروری تاخیر و بدعنوانی کے امکانات کم ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم کے تحت شرح سود صرف 4 فیصد رکھی گئی ہے، جسے برآمدی صنعت کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، صنعت، برآمد کنندگان اور کاروباری شعبے کو مختلف مراعات دی گئی ہیں جبکہ وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے لیے بھی خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زرعی اور کاروباری قرضوں کے ذریعے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار نوجوان مستفید ہوں گے جبکہ نوجوان گریجویٹس اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ایک ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ زرعی آلات کی درآمد پر تمام ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں جبکہ زرعی گریجویٹس کو جدید تعلیم اور تربیت کے لیے چین بھی بھیجا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایگریکلچرل انوویشن اور زرعی فنانس میں شرح سود میں کمی کی حکومتی اسکیم بھی آئندہ مالی سال میں جاری رکھی جائے گی۔

حکومتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ بجٹ 2026-27 کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی ریلیف، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *