سیاست
ایران معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل، اسرائیل-لبنان کشیدگی سے معاہدہ متاثر نہیں ہوگا، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور انہیں امید ہے کہ آئندہ مذاکرات نسبتاً آسان اور نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔
فرانس کے شہر ایویان میں جاری جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ کامیاب ہونا چاہیے اور اب مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران میں امریکی سرمایہ کاری سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا اور ایسی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
انہوں نے مذاکراتی عمل میں قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطر کے ساتھ کام کرنا ایک خوشگوار تجربہ رہا ہے اور وہ قطری قیادت اور عوام سے متاثر ہیں۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے بھی ایران کے ساتھ معاہدے کو پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت خطے میں استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر ہمیشہ اپنے دوست ممالک کی مدد کے لیے تیار رہتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر دستخط سے قبل بیروت پر کیے گئے حملے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے اسرائیلی حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں محدود نوعیت کی کشیدگی ایران کے ساتھ معاہدے کو متاثر نہیں کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے معاملے میں شام کو کردار ادا کرنے کا موقع دینا چاہیے کیونکہ ان کے خیال میں شام اس صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ معاہدے کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
