سیاست
بلوچستان میں نیب کی تاریخی کارروائی، 12 لاکھ 60 ہزار ایکڑ سرکاری اراضی واگزار، 1784 ارب روپے کی قومی دولت بازیاب
قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان نے کرپشن اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف ایک بڑی اور تاریخی کارروائی کرتے ہوئے صوبے بھر میں تقریباً 12 لاکھ 60 ہزار ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کرا لی ہے، جس کی مجموعی مالیت 1784 ارب روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
نیب کے مطابق یہ کارروائیاں حکومتِ بلوچستان کے تعاون سے ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت کی گئیں، جبکہ دونوں اداروں نے صوبے میں کرپشن کے خاتمے اور سرکاری وسائل کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئٹہ، حب، گوادر اور دیگر اضلاع میں غیر قانونی قبضوں کے خلاف آپریشنز مزید تیز کر دیے گئے ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی مقدار میں سرکاری اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرا کر قومی تحویل میں واپس لائی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق واگزار کرائی گئی زمین محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے حوالے کر دی گئی ہے تاکہ اسے عوامی مفاد، ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
نیب حکام نے بتایا کہ مستقبل میں سرکاری اراضی کو غیر قانونی قبضوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید ڈیجیٹل ریکارڈ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں گوادر کی اراضی کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جس سے سرکاری املاک کے ریکارڈ میں شفافیت آئے گی اور کسی بھی قسم کی جعلسازی یا ریکارڈ میں ردوبدل کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
نیب کے مطابق یہ کارروائی بلوچستان میں سرکاری اراضی کے تحفظ، قومی وسائل کی بازیابی اور کرپشن کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
