سیاست
بھارت پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی روکنے کے لیے کام کر رہا ہے، بھارتی وزیر کا اعتراف
بھارت کے ایک سینئر وزیر نے اعتراف کیا ہے کہ نئی دہلی پاکستان کی جانب بہنے والے پانی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔
بھارتی وزیرِ بلدیات و آبی وسائل سی آر پاٹل نے کہا ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ “پاکستان کی طرف ایک قطرہ پانی بھی نہ جائے”۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر کیا گیا ہے جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
بھارت نے گزشتہ سال کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس واقعے کا الزام سرحد پار عناصر پر عائد کیا، تاہم پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔
سندھ طاس معاہدہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، جس کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے حقوق پاکستان کو دیے گئے تھے جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے تھے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کی زراعت، پن بجلی اور پینے کے پانی کی ضروریات کا بڑا انحصار انہی دریاؤں پر ہے۔ پاکستانی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر بھارت نے دریاؤں کے بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تبدیلی پیدا کی تو اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
