سیاست
قومی اسمبلی کے 27ویں اجلاس میں 80 فیصد ارکان کم از کم ایک نشست سے غیر حاضر، وزیراعظم ایک بھی اجلاس میں شریک نہ ہوئے: فافن رپورٹ
اسلام آباد (افضل شاہ یوسفزئی): فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے قومی اسمبلی کے 27ویں اجلاس سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ارکان کی حاضری اور پارلیمانی سرگرمیوں میں شرکت کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 11 مئی سے 22 مئی 2026 کے درمیان منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے 27ویں اجلاس کی 9 نشستوں میں سے صرف 66 ارکان، یعنی 20 فیصد ارکان، تمام نشستوں میں شریک ہوئے۔ دوسری جانب 33 ارکان قومی اسمبلی، جو ایوان کی کل رکنیت کا 10 فیصد بنتے ہیں، پورے اجلاس کے دوران ایک بھی نشست میں شریک نہیں ہوئے۔
فافن کے مطابق اجلاس کی پہلی نشست میں سب سے زیادہ حاضری ریکارڈ کی گئی جہاں 249 ارکان، یعنی 75 فیصد اراکین، موجود تھے۔ اس کے برعکس پانچویں نشست میں سب سے کم حاضری دیکھی گئی جہاں صرف 164 ارکان، یعنی 49 فیصد اراکین، شریک ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 267 ارکان قومی اسمبلی، جو ایوان کے 80 فیصد اراکین بنتے ہیں، کم از کم ایک نشست سے غیر حاضر رہے۔
فافن کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کی کسی بھی نشست میں شریک نہیں ہوئے، جبکہ قائد حزب اختلاف نے تمام 9 نشستوں میں شرکت کرتے ہوئے مکمل حاضری کا ریکارڈ برقرار رکھا۔
کابینہ ارکان کی حاضری کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ قومی اسمبلی سے منتخب ہونے والے وزراء میں صرف ایک وفاقی وزیر اور ایک وزیر مملکت تمام نشستوں میں شریک ہوئے، جبکہ ایک وفاقی وزیر اور ایک وزیر مملکت ایک بھی نشست میں شریک نہیں ہوئے۔
پارلیمانی نگرانی کے عمل سے متعلق رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سوالات کے وقت کے دوران 26 وفاقی وزراء کو جوابات دینا تھے، تاہم ان میں سے صرف 12 وزراء متعلقہ دن ایوان میں موجود تھے۔ اسی طرح توجہ دلاؤ نوٹسز کے جواب کے لیے مقرر 8 وزراء میں سے صرف 3 وزراء ایک نشست میں موجود پائے گئے۔
فافن نے اپنی رپورٹ میں پارلیمانی حاضری کو جمہوری نظام، قانون سازی اور حکومتی احتساب کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے منتخب نمائندوں کی فعال شرکت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
