صحت
ہیٹ ویو میں صرف 8 گلاس پانی کافی نہیں، ماہرین نے اہم انتباہ جاری کر دیا
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دوران روزانہ صرف 8 گلاس پانی پینا ہر شخص کی ضروریات پوری نہیں کرتا، کیونکہ جسم کو درجہ حرارت، جسمانی سرگرمی اور صحت کی حالت کے مطابق زیادہ پانی درکار ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گرمی کے موسم میں جسم پسینے کے ذریعے پانی اور ضروری نمکیات خارج کرتا ہے، جس کے باعث ڈی ہائیڈریشن یا پانی کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ باہر کام کرنے والے افراد، کھلاڑی، بزرگ شہری اور طویل سفر کرنے والے افراد کو عام دنوں کی نسبت زیادہ پانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پیاس محسوس ہونا پانی کی کمی کی پہلی علامت نہیں ہوتی بلکہ اس وقت تک جسم میں ہلکی سطح کی ڈی ہائیڈریشن شروع ہو چکی ہوتی ہے۔ پانی کی کمی کی علامات میں تھکن، سر درد، چکر آنا، خشک منہ، پٹھوں میں کھچاؤ اور گہرے رنگ کا پیشاب شامل ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک ہی وقت میں بہت زیادہ پانی پینا نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے جسم میں نمکیات کا توازن متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ پانی وقفے وقفے سے مناسب مقدار میں پیا جائے۔
طبی ماہرین کے مطابق ناریل پانی، لیموں پانی، لسی، دہی، تربوز، کھیرے اور دیگر پانی سے بھرپور غذائیں بھی جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے اور نمکیات کی کمی پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ماہرین نے گردوں اور دل کے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر پانی کی مقدار میں اچانک اضافہ نہ کریں۔ ان کے مطابق ہیٹ ویو کے دوران جسم کی ضروریات کے مطابق باقاعدگی سے پانی پینا گرمی کے اثرات سے بچاؤ کا مؤثر طریقہ ہے۔
