سیاست
مجتبیٰ خامنہ ای کا حج پیغام، اسرائیل کے خاتمے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور
تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حج 2026 اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر جاری اپنے خصوصی پیغام میں اسرائیل کے خاتمے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ “صہیونی حکومت یقینی طور پر جڑ سے اکھاڑ دی جائے گی۔”
الجزیرہ اور ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اسرائیل کو “خطے کی ایک خطرناک اور مہلک سرطانی رسولی” قرار دیا اور کہا کہ ایران نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے صہیونی حکومت کو بے بس کر دیا ہے۔
انہوں نے حالیہ جنگ کو “دوسری مسلط کردہ جنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا کے لیے “ایک سخت طمانچہ” ثابت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال حج کے موقع پر امریکا اور اسرائیل سے اظہارِ لاتعلقی پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے اور “مرگ بر امریکا” اور “مرگ بر اسرائیل” امت مسلمہ کے نمایاں نعرے بن جائیں گے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ تیزی سے کم ہو رہا ہے اور اب خطے کی سرزمین امریکی فوجی اڈوں کے لیے محفوظ نہیں رہے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اپنی “بدقسمت زندگی کے آخری مراحل” میں داخل ہو چکا ہے اور مستقبل امتِ مسلمہ اور نئی اسلامی تہذیب کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو مشترکہ مفادات اور صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے ایرانی عازمین حج کو ہدایت کی کہ وہ دنیا بھر سے آئے مسلمانوں تک “فتح اور مزاحمت” کا پیغام پہنچائیں اور امت مسلمہ میں امید اور اتحاد کو فروغ دیں۔
