Connect with us

صحت

“فور ایور کیمیکلز” انسانی جسم میں مستقل موجود، نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

Published

on

دنیا بھر میں استعمال ہونے والے مصنوعی کیمیکلز اب انسانی صحت کے لیے ایک خاموش خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ “فور ایور کیمیکلز” کہلانے والے خطرناک کیمیکلز انسانی جسم میں مستقل طور پر موجود رہتے ہیں اور آسانی سے ختم نہیں ہوتے۔

سائنسی زبان میں ان کیمیکلز کو “پی ایف اے ایس” کہا جاتا ہے، جو ہزاروں مختلف اقسام پر مشتمل ایک بڑی کیمیکل فیملی ہے۔ یہ کیمیکلز پانی، گرمی اور چکنائی کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے کے لیے کپڑوں، فرنیچر، کھانے کی پیکنگ، گوند اور دیگر صنعتی مصنوعات میں استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ یہ کیمیکلز ماحول میں تحلیل نہیں ہوتے بلکہ زمین، پانی اور خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر جمع ہوتے رہتے ہیں۔

امریکا کی معروف تجربہ گاہ این ایم ایس لیبز کی تحقیق میں 10 ہزار سے زائد خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر افراد کے خون میں ایک وقت میں پانچ یا اس سے زیادہ مختلف کیمیکلز موجود تھے۔

تحقیق کے دوران “پی ایف ایچ ایکس ایس” نامی کیمیکل تقریباً 98 فیصد نمونوں میں پایا گیا، جس کے جگر اور مدافعتی نظام پر منفی اثرات سامنے آ چکے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی ممالک اب اس کے استعمال پر پابندی عائد کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف چند عام کیمیکلز تک محدود تھی، جبکہ حقیقت میں انسانی جسم میں ان کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق جانوروں پر ہونے والی تحقیقات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ یہ کیمیکلز عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں، دماغی تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں، تاہم انسانوں پر ان کے مکمل اثرات پر مزید تحقیق جاری ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ ان کیمیکلز کو روزمرہ مصنوعات سے مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں، لیکن ان کے محفوظ متبادل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *