Connect with us

سیاست

شہ رگ سے جدا تو نہیں

Published

on

تحریر : ارم نیاز

برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے وقت ڈوگرہ حکمرانوں، کانگریسی رہنماؤں اور برطانوی وائسرائے کی رچائی گئی سازش کا خمیازہ آج بھی کشمیر بھگت رہا ہے۔ یہ اسی چال کا نتیجہ ہے کہ جموں و کشمیر آج بھی ظالم بھارتی افواج کے قبضے میں ہے۔ یہ وہی کشمیر ہے جس کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔
تاریخ کے اوراق پلٹائے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تین جون 1947ء کے منصوبۂ آزادیٔ ہند کے مطابق جنت نظیر وادی کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا لیکن پہ در پہ پیش آئے واقعات کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔
جموں و کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ تھا لیکن اسکا حکمران ہندو تھا جو ریاست کو خود مختار بنانے کا خواہش مند تھا۔ یہاں کے لوگ مہاراجہ کے دور کو آمرانہ قرار دیتے تھے، یہی وجہ تھی کہ1931 میں کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ کے ظلم کے خلاف ایک تنظیم نیشنل کانفرنس کے نام سے وجود میں آئی۔ کشمیریوں کو حقِ خودارادیت سے محروم کر دیے جانے کے بعد کشمیریوں نے قیام پاکستان سے قبل 19 جولائی 1947ء کو الحاقِ پاکستان کی قرار داد منظور کی۔
22 اکتوبر کو پاکستان نے کشمیری مسلمانوں کو ظلم سے نجات دلانے کیلئے آپریشن گلمرگ شروع کیا جسکے تحت دو ہزار قبائلیوں نے مظفرآباد تک کے علاقوں کو مہاراجہ کے تسلط سے آزاد کروایا۔ اکتوبر 1947 میں ہری سنگھ سرینگر سے فرار ہوکر جموں پہنچا اور ساتھ ہی بھارت کے ساتھ دستاویز الحاق پر دستخط کر دیے۔ ہری سنگھ کے الحاق کے بعد بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی اور آج تک وہاں قابض ہوکر مسلمانوں کی زندگی دوبھر کر رکھی ہے۔
1948ء میں بھارت کے اس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے بذات خود مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ میں پیش کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کثرتِ رائے سے قرار داد منظور بھی کی گئی اور کشمیری عوام کو استصوابِ رائے سے اس مسئلے کو حل کرنے کا حق دیا گیا لیکن صد افسوس اقوام متحدہ یہ مسئلہ حل کروانے میں آج بھی ناکام دکھائی دیتی ہے۔
ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کی تاریخ برسوں پرانی ہے۔ 14 اگست 1931 میں پہلی بار علامہ محمد اقبال نے ہندوستان بھر میں کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منانے کی کال اس وقت دی جب مہاراجہ ہری کے خلاف اٹھنے والی سیاسی تحریک کے ایک ناخوشگوار واقعے کے دوران 21 کشمیریوں کی موت واقع ہوئی۔
ہ 28 فروری، 1975 کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل پر کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منایا گیا۔
ہر سال دن تو منایا جاتا تھا مگر کوئی خاص دن مختص نہ تھا۔ 1990 میں سرکاری طور پر اس دن کو منانے کا آغاز سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کیا تھا جسکی تائید نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو نے کی تھی۔ یوں 1990 میں پہلی بار سرکاری طور پر پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا۔
یوم یکجہتی کشمیر منانے کے پیچھے کیا مقاصد ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد اس پار کے بہن بھائیوں کو یقین دہانی کرانی ہے کہ پاکستان نے انکو تنہا نہیں چھوڑا،۔ پاکستانیوں کے دل آج بھی اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
یہ دن منانے کا مقصد بھارت کا مکروہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے بینقاب کرنا ہے جو پُرامن ہونے کا ڈھنڈورا تو پیٹتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے برعکس عمل کرتے ہوئے بھارت نے پانچ اگست 2019ء کو ہٹ دھرمی سے آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کر کے کشمیریوں کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع کر دیا۔
یہ دن منانے کا مقصد اقوام متحدہ کو بھی یہ یاد دہانی کروانی ہے کہ اسکے وجود میں آنے کا مقصد کیا ہے؟ اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل مسئلہ کشمیر غور طلب تو ہے لیکن اب تک اسکا کوئی مناسب حل کیوں تلاش نہیں کیا گیا؟ کشمیری عوام کو حق خودارادیت سے کیوں محروم رکھا گیا؟ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالنے پر بھارت کے خلاف کیوں کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی؟ ان سوالات کے جواب کشمیریوں سمیت پوری دنیا کا ہر پر امن فرد مانگتا ہے اور کشمیر کی آزادی تک مانگتا رہے گا

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *