سیاست
پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدے کی امید
پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک جامع امن معاہدے کا مسودہ تیار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ عرب میڈیا اور ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا تو اسے ”اسلام آباد ڈیکلریشن“ کا نام دیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس نو نکاتی معاہدے میں جوہری پروگرام کو شامل نہیں کیا گیا، بلکہ اس کا بنیادی محور فوری اور غیر مشروط جنگ بندی ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی سویلین، فوجی اور معاشی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق معاہدے میں فوجی کارروائیوں اور میڈیا وار کو مکمل طور پر روکنے، داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحرِ عمان میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے بعد دونوں فریق سات دن کے اندر دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے جبکہ امریکا ایران پر عائد پابندیاں مرحلہ وار نرم کرے گا۔
اس دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران میں موجود ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان کا دورہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کا حصہ ہے۔
تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان طویل اور اہم ملاقات ہوئی جس میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بعد ازاں عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے رابطہ کر کے بتایا کہ ایران پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات میں سنجیدگی سے شریک ہے، تاہم امریکا کے بعض مطالبات امن عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی عمل جاری رہنا چاہیے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ مذاکرات میں جوہری معاملات زیرِ بحث نہیں لائے جا رہے کیونکہ اس سے مذاکرات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے اختلافات گہرے ہیں اور ابھی حتمی معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور امریکا اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران امریکی دباؤ کی وجہ سے مذاکرات پر آمادہ ہوا ہے، جبکہ امریکا ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔
